Thursday , August 24 2017
Home / دنیا / دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی موجودگی سے باہمی تعلقات متاثر

دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی موجودگی سے باہمی تعلقات متاثر

پاکستان کو 300  ملین ڈالرس کی امداد روک دی گئی ۔ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی ناکافی ۔ پنٹگان کی رپورٹ

واشنگٹن 18 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کو ایک واضح پیام دیتے ہوئے امریکہ نے کہا کہ اس کے ملک میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کی موجودگی اور ان دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے ہی دونوں ملکوں کے مابین باہمی تعلقات اور سکیوریٹی امداد بھی متاثر ہو رہی ہے ۔ پنٹگان نے افغانستان کے تعلق سے اپنی چھ ماہی رپورٹ میں جو کل ہی کانگریس کو روانہ کی گئی ہے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ بالکل واضح موقف رکھتا ہے کہ اسے سکیوریٹی ماحول کو بہتر بنانے کیلئے کیا کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اسے دہشت گردوں و تخریب کار گروپس کو اپنے ملک میں محفوظ ٹھکانے اور پناہ گاہیں فراہم نہیں کرنا چاہئے ۔ پنٹگان نے کہا کہ ایسی بات چیت افغانستان میں استحکام اور سکیوریٹی کے مسئلہ پر پاکستان کے ساتھ نہ صرف امریکہ کی بات چیت متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کے نتیجہ میں امریکہ ۔ پاکستان باہمی تعلقات کے دوسرے مسائل پر بھی اثر ہوتا ہے اور دونوں ملکوں کے مابین سکیوریٹی تعاون اور امداد بھی متاثر ہو رہی ہے ۔ امریکی ڈیفنس سکریٹری ایشٹن کارٹر  نے ابھی یہ توثیق نہیں کی ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی سرحدات کے علاقہ میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف کوئی کارروائی کی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں پنٹگان نے پاکستان کو 300 ملین ڈالرس کا فنڈ روک دیا ہے

جو پاکستان میں جاریہ اقتصادی سال کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے ۔ پنٹگان نے پاکستان کو ایک سخت پیام میں کہا تھا کہ افغانستان ۔ پاکستان سرحد کے علاقہ میں دہشت گرد گروپس بڑی آسانی سے پنپ رہے ہیں اور یہاں انہیں محفوظ پناہ گاہیں ملتی جا رہی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اس علاقہ میں جو گروپس سرگرم ہیں ان میں طالبان ‘ القاعدہ ‘ القاعدہ سے متعلق گروپ ‘ حقانی نیٹ ورک ‘ لشکر طیبہ ‘ تحریک طالبان پاکستان ‘ آئی ایس۔ خراساں صوبہ اور اسلامی تحریک ازبیکستان شامل ہیں۔ پنٹگان کے بموجب یہ گروپس اور یہ علاقہ دونوں ہی ممالک کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے اور سکیوریٹی چیلنج ہے ۔ اس علاقہ سے علاقائی استحکام کو اور سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہے ۔ پنٹگان نے اس سلسلہ میں100  صفحات پر مشتمل اپنی ایک رپورٹ میں یہ بات کہی ہے ۔ رپورٹ کے بموجب سکیوریٹی خاص طور پر کنار صوبہ میں بہت بگڑ گئی ہے اور گذشتہ چند مہینوں کے دوران یہاں کئی حملے ہوئے ہیں ۔ ان حملوں میں افغانستان کی مقامی فورس اور دوسرے سکیوریٹی گروپس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے ۔ رپورٹ کے بموجب حالانکہ القاعدہ کی اصل قیادت افغانستان ۔ پاکستان علاقہ میں اپنی اہمیت سے محروم ہوچکی ہے لیکن اس سے متعلقہ عناصر سرحد کے دونوں جانب محفوظ پناہ گاہیں حاصل کرتے جا رہے ہیں تاکہ یہاں اپنے کیڈر میں نیا حوصلہ پیدا کیا جائے اور انہیں حملوں کیلئے تیار کیا جاسکے ۔ پنٹگان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں اور عسکری گروپس سے علاقہ میں جو خطرات درپیش ہیں ان سے نمٹنے کیلئے سرگرم رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک سے نمٹنے مناسب اقدامات نہیں کئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT