Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی سرکاری پالیسی نہ ہونے کا پڑوسی ملک کا ادعا مسترد

دہشت گردی سرکاری پالیسی نہ ہونے کا پڑوسی ملک کا ادعا مسترد

پارلیمنٹ کو اکھاڑہ بنانے پر اظہار تاسف، مجاہدین آزادی کو بھرپو ر خراج عقیدت، صدر جمہوریہ ہند کا یوم آزادی پر قوم سے خطاب

نئی دہلی /14 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اپنے پڑوسیوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے جو خاص طورپر پاکستان کے لئے ہے، صدر جمہوریہ ہند پرنب مکرجی نے آج کہا کہ ہمارے پڑوسیوں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ ان کی سرزمین ہندوستان سے دشمنی رکھنے والوں کی جانب سے استعمال نہیں کی جاتی، جب کہ وہ اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا استعمال سرکاری پالیسی کا آلۂ کار نہیں ہے۔ وہ 69 ویں یوم آزادی کے سلسلے میں قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو مباحث کی بجائے باہمی تصادم کا مقام بنادیا گیا ہے۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے کہا کہ ہم جمہوریت کے اداروں پر دباؤ محسوس کر رہے ہیں، کوئی بھی اصلاح داخلی طورپر شروع ہونی چاہئے۔

ان کا بیان اس پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے کہ ملک میں پنجاب کے علاقہ گرداسپور اور جموں و کشمیر کے علاقہ ادھم پور میں عسکریت پسند پاکستان سے دراندازی کرکے داخل ہوئے تھے اور انھوں نے سیکورٹی ارکان عملہ اور بے قصور شہریوں کو ہلاک کردیا تھا اور حال ہی میں پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس مکمل طورپر ضائع ہوچکا ہے، کیونکہ برسر اقتدار پارٹی اور اپوزیشن ایک دوسرے سے متصادم تھیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم فوری کارروائی نہ کریں تو ہماری آئندہ نسلیں برسوں تک ہمیں احترام اور ستائش کے ساتھ یاد نہیں رکھیں گی۔ ہمیں چاہئے کہ 1947ء میں ہمارے آباواجداد نے جیسے ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، اسے ہم تعبیر کی شکل دیں۔ انھوں نے کہا کہ دستور جمہوریت کا ایک گراں قدر تحفہ ہے۔ ہمارے ادارے اور انفراسٹرکچر مثالی نمونے ہیں۔ بہترین ورثہ کے لئے مسلسل دیکھ بھال اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے جمہوری ادارے دباؤ کے تحت ہیں۔

پارلیمنٹ مباحث کی بجائے باہمی تصادم کا مقام بن گئی ہے۔ سماجی ہم آہنگی کا تذکرہ کرتے ہوئے پرنب مکرجی نے کہا کہ ہندوستانی جمہوریت منفرد ہے، کیونکہ یہاں کثرت میں وحدت پائی جاتی ہے۔ ہم رواداری اور صبر و تحمل کو فروغ دیتے ہیں۔ انھوں نے مہاتما گاندھی کا قول دہراتے ہوئے کہا کہ ہمیں انسانیت پر یقین کھونا نہیں چاہئے۔ انسانیت ایک سمندر ہے، اگر چند قطرے لے لئے جائیں تو سمندر خشک نہیں ہو جائے گا۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ بہترین سورماؤں کی عظیم نسل نے ناقابل فراموش چیلنجوں کا سامنا کیا ہے، جب کہ ہمارے نظریات اور پختہ ارادے خطرے میں تھے۔ انگریز سامراج کے خلاف ہماری جدوجہد پر سخت دباؤ تھا۔ انھوں نے مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔

TOPPOPULARRECENT