Tuesday , June 27 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی سے ساری دنیا کو سنگین خطرہ لاحق، لعنت کیخلاف متحدہ مقابلہ پر زور

دہشت گردی سے ساری دنیا کو سنگین خطرہ لاحق، لعنت کیخلاف متحدہ مقابلہ پر زور

انتہاء پسندی و دہشت گردی کی تربیت و فنڈنگ کے خاتمہ کے بغیر مسئلہ کا حل ناممکن، پاکستان پر مودی کی بالواسطہ تنقید

آستانہ ۔ 9 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور پاکستان آج ایک علاقائی اتحاد ’شنگھائی تعاون تنظیم‘ میں باضابطہ طور پر شامل ہوگئے۔ اس موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے بالواسطہ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انتہاء پسندی، دہشت گردی کی تربیت اور اس کو فنڈس کی فراہمی جیسے مسائل کا حل اس وقت تک ممکن ن ہیں ہوسکتا جب تک اس کے خلاف مربوط و مضبوط اقدامات نہیں کئے جاتے۔ مودی نے کہا کہ دہشت گردی سے ساری دنیا کو خطرہ لاحق ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی چوٹی کانفرنس کے دوران پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی موجودگی میں کہا کہ ’یہ انتہاء پسندی کا مسئلہ ہوکہ دہشت گردوں کی بھرتی ان کی تربیت اور فنڈس کی فراہمی کا مسئلہ ہو جب تک ہم مربوط و مضبوط مساعی نہیں کرتے ان کا  حل تلاش کرنا ناممکن ہوگا‘‘۔ مودی نے چینی صدر ژی جن پنگ کی موجودگی میں ’’شنگھائی کی تعاون تنظیم  (ایس سی او) کے رکن ممالک کے مابین مؤثر رابطہ کو ہندوستان اولین ترجیح دیتا ہے۔ رابطہ سے تعاون کے راستے ہموار ہوگئے ہیں اور نوجوانوں اور معاشروں کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اس ضمن میں خودمختاری اور علاقائی یکجہتی بھی ضروری ہے۔ اس کو مشمولیاتی اور پائیدار بنانا بھی اہم ہوگا‘‘۔ مودی کے ان تبصروں کو نمایاں اہمیت حاصل ہے کیونکہ چند ہفتے قبل ہندوستان نے بیجنگ میں منعقدہ انتہائی بڑے پیمانے پر منعقدہ بیلٹ اینڈ روڈ فورم کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس تقریب میں 29 ممالک کے سربراہان نے شرکت کی تھی۔ ہندوستان، پاکستان اور ایران کو 2005ء کے دوران اس تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے شامل کیا گیا تھا۔ بعدازاں روس کی بھرپور تائید کے سبب  ہندوستان کو اب مکمل رکنیت حاصل ہوئی ہے جبکہ پاکستان کو خود چین کی تائید سے یہ موقف حاصل ہوا ہے۔ وزیراعظم ہند نریندر مودی نے آج چینی صدر ژی جن پنگ سے بات کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے بعض تنازعات کی یکسوئی کیلئے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے  جذبات کا احترام کرنا چاہئے اور کسی بھی تنازعہ کی یکسوئی مناسب طریقہ سے ہونی چاہئے۔ یاد رہیکہ سی پی ای سی اور این ایس جی میں ہندوستان کی شمولیت کے موضوعات دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی کی وجوہات بنے تھے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT