Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی سے لڑائی میں پاکستان پر بھروسہ متزلزل ، راجناتھ کا ادعا

دہشت گردی سے لڑائی میں پاکستان پر بھروسہ متزلزل ، راجناتھ کا ادعا

نئی دہلی ، 27 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ دہشت گردی سے لڑنے کے مسئلے پر پاکستان پر اُن کا بھروسہ ’’بالکلیہ متزلزل‘‘ ہوچکا ہے کیونکہ اُس سے ہندوستان کو جس قسم کی تائید و حمایت کی توقع تھی ویسا نہیں ہورہا ہے۔ مودی حکومت کے دو سال کی تکمیل کے موقع پر راجناتھ نے یہ بھی واضح کردیا کہ پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ کی تحقیقات کیلئے این آئی اے ٹیم کو پاکستان آمد کی اجازت نہ دینا ’’دغابازی‘‘ کے مترادف ہوگا۔ نیوز چیانلوں کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے مختلف النوع مسائل و موضوعات کا احاطہ کیا جن میں اترپردیش میں 2017ء کے اسمبلی چناؤ اور خطرناک دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس سے خطرات شامل ہیں۔ انھوں نے کہا: ’’میرا بھروسہ پوری طرح متزلزل ہوچکا ہے۔

جس طرح کی مدد جو ہمیں اُن (پاکستان) سے دہشت گردی کے مسئلے پر حاصل ہونا چاہئے، ویسا نہیں ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی پس و پیش نہیں ہے۔‘‘ پٹھان کوٹ معاملہ پر راجناتھ نے کہا کہ دونوں ملکوں کی جانب سے ’’غیررسمی طور پر‘‘ یہ باہمی اتفاق ہوا تھا کہ جب پاکستان کی جوائنٹ انٹلیجنس ٹیم ہندوستان کا دورہ کرلے گی تو پھر این آئی اے ٹیم کو بھی (دورۂ پاکستان کی) اجازت دی جائے گی۔ ’’ہم منتظر ہیں کہ این آئی اے ٹیم کو پاکستان کے دورہ کی اجازت دی جائے۔‘‘ یہ بدبختانہ ہے کہ پٹھان کوٹ دہشت گردی کیس کے بارے میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس کیس سے جڑے خاطیوں کو سزا ضرور ملنا چاہئے۔ ’’مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ اگر ہماری این آئی اے ٹیم کو دورۂ پاکستان کی اجازت نہیں ملتی ہے تو یہ دغابازی ہوگی۔ انھیں اجازت دینا چاہئے۔‘‘ وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس مسئلہ پر معتمد کی سطح پر بھی غور ہوا ہے اور ہماری طرف سے بھی یہ کہہ دیا گیا ہے کہ آپ کی ٹیم دورہ کرچکی، ہماری این آئی اے ٹیم کو بھی پاکستان جانا چاہئے۔ دیکھنا ہے پاکستان کی طرف سے کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔ عشرت جہاں معاملہ کی سابقہ یو پی اے حکومت اور موجودہ این ڈی اے حکمرانی کے دوران کی گئی تحقیقات میں مبینہ ’یو ٹرن‘ سے متعلق سوال پر راجناتھ نے کہا کہ اس کیس میں آگے کی تحقیقات کو طے کرنا عدالت پر منحصر ہے۔ یو پی چناؤ کے تعلق سے وزیر داخلہ نے کہا کہ آئندہ سال کے انتخابات رام مندر مسئلہ پر نہیں بلکہ ترقی کے موضوع پر لڑے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT