Friday , March 24 2017
Home / ہندوستان / دہشت گردی سے مقابلہ میں ہندوستان کی مکمل تائید کا اعلان

دہشت گردی سے مقابلہ میں ہندوستان کی مکمل تائید کا اعلان

نئی دہلی 14 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اور اسرائیل کے مابین دوستی ہر گذرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور دونوں ملکوں کے تعلقات ایسے نہیں ہیں کہ انہیں چھپایا جائے ۔ اسرائیل کے صدر روئین ریولن نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے دہشت گردی سے مقابلہ میں ہندوستان کی مکمل تائید کا اعلان کیا ۔ ریولن آج آٹھ روزہ دورہ پر ہندوستان آئے ۔ تقریبا دو دہوں میں کسی اسرائیلی صدر کا یہ اولین دورہ ہند ہے ۔ پی ٹی آئی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیلی صدر نے یہ اعتراف کیا کہ فلسطین کے مسئلہ پر دونوں ملکوں کے مابین اختلافات ہیں لیکن انہوں نے ہند ۔ اسرائیل تعلقات میں اضافہ کے تعلق سے گرمجوشانہ اظہار خیال کیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی کے 25 سال آئندہ سال مکمل ہو رہے ہیں اور اس کا جشن منیا جائیگا ۔ انہوں نے دہشت گردی سے مقابلہ میں ہندوستان کی مکمل تائید کا وعدہ کیا اور کہا کہ ان کا ملک جمہوریت کی اقدار کے دفاع میں ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہونے میں فخر محسوس کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ‘ دہشت گردی ہی ہے چاہے یہ کوئی بھی بپا کرے اور اس کے متاثر چاہے کوئی بھی ہوں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے الفاظ میں اس کی مذمت کریں اور ہمارے عمل سے اس کا مقابلہ کریں تاکہ اس برائی کا خاتمہ ہوسکے ۔ اسرائیل ‘ ہندوستان کو دفاعی آلات سربراہ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ۔ اسرائیل میں ان تبصروں پر کہ ہندوستان عرب دنیا سے اپنے روابط کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو پوشیدہ رکھتا ہے ریولن نے کہا کہ اسرائیل کو ہندوستان کے ساتھ دوستی پر فخر ہے اور وہ مانتے ہیں کہ ہندوستان بھی اسرائیل کے ساتھ دوستی پر فخر محسوس کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دوستی صرف قائدین اور حکومتوں تک محدود نہیں ہے ۔ یہ دوستی تمام شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے ۔ ہر شعبہ میں چاہے وہ مطالعہ کے ہوں یا تجارت کے ہوں یہ دوستی ہے ۔ یہ دوستی ایسی ہے جو ہر گذرتے دن کے ساتھ بہتر ہوتی جا رہی ہے اور یہ ایسی دوستی نہیں ہے جسے ہم کو چھپانا چاہئے ۔ مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد مملکت فلسطین کیلئے ہندوستان کی مسلسل تائید سے متعلق سوال پر ریولن نے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ دوست ہر مسئلہ پر ایک دوسرے سے ہم خیال ہوں۔ اور بحیثیت دوست ہم کسی مسئلہ پر متفق ہوسکتے ہیں اور کسی مسئلہ پر اختلاف کرسکتے ہیں ۔ ہمیں اس کا احترام کرنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اسرائیل اور فلسطین کے مابین تنازعہ کے منصفانہ حل کیلئے ہندوستان کی خواہش کو ہم سمجھتے ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT