Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی سے نمٹنے فوری کارروائی ضروری

دہشت گردی سے نمٹنے فوری کارروائی ضروری

The Prime Minister, Shri Narendra Modi at the G20 Summit 2015, in Turkey on November 15, 2015.

جی 20 چوٹی اجلاس میں عالمی قائدین کا متحدہ موقف ، اقوام متحدہ کا عنقریب لائحہ عمل
انطالیہ ۔ /15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے صدر امریکہ بارک اوباما اور دیگر عالمی قائدین کے ساتھ ایک آواز ہوکر دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے متحدہ عالمی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ترکی میں جی ۔ 20 چوٹی اجلاس پر انتہائی وحشیانہ پیرس حملے ، شام میں جنگ اور آئی ایس کے خلاف لڑائی جیسے موضوعات چھائے رہے ۔ دنیا کی 20 سرکردہ معیشتوں کے سربراہان کے اجلاس میں معاشی ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں بھی غور و خوص کرتے ہوئے امکان ہے کہ کل قراردادیں منظور کی جائیں گی ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ دہشت گردی پر ایک علحدہ قرارداد کی منظوری عمل میں آئے گی جو چوٹی اجلاس اعلامیہ سے ہٹ کر ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے انتہائی خطرناک سائے میں یہ اجلاس منعقد ہورہا ہے اور تمام قائدین اس کی تکلیف ، برہمی اور صدمے سے دوچار ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پیرس ، انقرہ اور لبنان میں کئے گئے وحشیانہ حملے کی ہم سب متحدہ طور پر مذمت کرتے ہیں ۔ ہمیں روس کے حالیہ سانحہ پر بھی انتہائی افسوس ہے جہاں سینائی (مصر) میں طیارہ کو مار گرایا گیا ۔ یہ تمام واقعات ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ہمیں کس طرح کی طاقتوں کا سامنا ہے اور یہ گروپس مخصوص نشانوں و علاقوں کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ یہ ہمارے وقت کا سب سے بڑا عالمی چیالنج ہے ۔ ایسے سانحہ میں صرف عوامی زندگیوں کا اتلاف نہیں ہوتا بلکہ معاشی ضرب بھی پڑتی ہے اور ہماری زندگیوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی سطح پر اس چیالنج سے نمٹنے کیلئے متحدہ کوشش کی جائے اور جی 20 کیلئے یہ اولین ترجیحی مسئلہ بن چکا ہے ۔ قبل ازیں انہوں نے برکس قائدین سے ملاقات کے دوران کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ساری انسانیت کو متحد ہونا چاہئیے ۔

صدر امریکہ بارک اوباما نے بھی اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کا صفایا کرنے اور شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمہ کیلئے کوششوں کو دگنا کردینے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پیرس میں کیا گیا دہشت گرد حملہ ایک عالمی شہری سماج پر حملہ ہے اور اس وحشت ناک حملے نے ہر طرف تاریکی پھیلادی ہے ۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے امریکہ کے ساتھ یگانگت جاری رکھنے کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ یہ چوٹی اجلاس دہشت گردی کے خلاف لڑائی کیلئے ایک سخت پیام دے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں دنیا بھر میں اجتماعی دہشت گرد سرگرمیوں سے  مقابلہ ہے ۔ کیونکہ دہشت گردی کسی مذہب ، نسل ، کسی قوم یا کسی ملک کو تسلیم نہیں کرتی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جی 20 چوٹی اجلاس میں پہلے سے طئے شدہ ایجنڈہ پر مذاکرات کریں گے لیکن بین الاقوامی دہشت گردی پر سخت موقف کیلئے لائحہ عمل کو یقینی بنائیں گے ۔ صدر روس ولادیمیر پوٹین نے کہا کہ پیرس میں جو کچھ ہوا ہم سب اسے دیکھ چکے ہیں اور متاثرہ عوام کے ساتھ ہماری ہمدردی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خطرات سے موثر طور پر نمٹنے کیلئے جاری کوششوں میں روس ہمیشہ ساتھ رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو اس ضمن میں سخت اقدامات کرنا ضروری ہے ۔ صدر چین ژی جن پنگ نے بھی کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں بین الاقوامی برادری کے ساتھ ہیں ۔ یوروپی یونین کے صدر ڈونالڈ ٹسک نے کہا کہ ہماری کوشش یہ ہوگی کہ داعش کے خلاف لڑائی میں ایک دوسرے سے تعاون یقینی بنایا جائے ۔ سکریٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون نے کہا کہ بہت جلد جامع منصوبہ پیش کیا جائے گا تاکہ انتہاپسندی سے موثر طور پر نمٹا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہوئے موثر لائحہ عمل کے ذریعہ ہی اس پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT