Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی پر مودی ۔ اوباما بات چیت

دہشت گردی پر مودی ۔ اوباما بات چیت

ہندوستان میں مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں کو ہراسانی کا سامنا
مذہبی آزادی کو اولین ترجیح ، مودی سے ملاقات سے قبل امریکی کانگریس کے اسپیکرکو ارکان کا مکتوب
واشنگٹن۔  8 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم ہند نریندر مودی نے آج امریکی صدر بارک اوباما کے ساتھ انتہاپسندی سے درپیش چیلنجوں کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا جس پر دونوں ہی قائدین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انتہا پسندی سے نمٹنے کے لئے سیول سوسائٹی اور اقلیتی کمیونیٹیز کی شرکت بے حد ضروری ہے۔ ایک سینئر ایڈمنسٹریشن آفیسر نے بتایا کہ دونوں قائدین نے دنیا بھر میں پھیلی انتہا پسندی پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیر حاصل گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ انتہا پسندی ؍ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے تمام ممالک کو یکجا ہوجانا چاہئے، البتہ انسانی حقوق اور ہندوستان میں مذہبی آزادی کے موضوعات زیربحث نہیں آئے۔ ہندوستان کے معتمد خارجہ ایس جے شنکر نے بھی اس بات کی توثیق کی کہ دونوں قائدین کے درمیان یہ دو موضوعات زیربحث نہیں آئے۔ دوسری طرف امریکہ میں 18 غیرجانبدار قانون سازوں کے ایک گروپ نے ایوان کے اسپیکر پال ریان پر اس بات کا زور ڈالا ہے کہ جب وہ (ریان) وزیراعظم ہند نریندر مودی سے ملاقات کریں تو ہندوستان میں مذہبی آزادی کے موضوع کو ضرور اٹھائیں۔ کانگریس ارکان نے ٹرینٹ فرینکس اور بیٹی مک کلم کی قیادت میں اسپیکر پال ریان کو مکتوب تحریر کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ہندوستان میں عرصہ دراز سے اقلیتیں یعنی مسلمان، عیسائی، بدھسٹوں اور سکھوں کو ہراسانی کا سامنا ہے۔

ان کے خلاف نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں اور انہیں پورا پورا تحفظ حاصل ہے لہذا ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ کی ملاقات جب وزیراعظم نریندر مودی سے ہو تو آپ ہندوستان میں مذہبی آزادی کے موضوع کو اولین ترجیح دیں کیونکہ ہند۔ امریکہ کی شراکت داری نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور ایسے میں دونوں ممالک کے لئے یہ بہتر ہوگا کہ مذہبی رواداری اور آزادی سے متعلق ایک دوسرے کا موقف معلوم کرلیں۔ اپنے مکتوب میں کانگریس ارکان نے ایسے متعدد واقعات کا تذکرہ کیا ہے جسمیں تشدد برپا ہونے کے بعد اقلیتی فرقہ کے لوگ مارے گئے اور بے گھر ہوگئے، حالانکہ ان واقعات کی تحقیقات کی جاتی ہیں لیکن متاثرین کو اس کے باوجود بھی انصاف نہیں ملتا۔ مسٹر فرینکس نے کہا کہ ہمارے لئے بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، لہذا یہ ہماری توقعات میں شامل ہے کہ ہندوستان کے ہر شخص کو چاہئے کہ وہ کسی بھی مذہب کا پیروکار ہو، مذہبی آزادی حاصل رہے گی اور یہی وہ اقدار ہیں جن پر ہند ۔ امریکہ کے جمہوری تعلقات کے استحکام کا دارومدار ہے۔ ہندوستان کی تمام اقلیتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنے مذہبی عقائد پر آزادانہ عمل کرسکیں۔ جن کانگریسیوں نے مکتوب پر دستخط کئے، ان میں کریس اسمتھ، جوان ورگاس، اینڈرے کارسن، کیتھ ایلسین، پیٹرک میسین، کیتھ روتھفس، اینڈی ویبر، ڈان کلڈی، مائیک ہونڈا، جان کانیرس جونیر، جان گرامنڈی، رابرٹ ایڈلہولڈ، انا ایشو، جوپٹس، باربرالی اور ڈیوڈ ولاڈاؤ شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT