Sunday , June 25 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی کا خطرہ ہندوترکی کی مشترکہ پریشانی

دہشت گردی کا خطرہ ہندوترکی کی مشترکہ پریشانی

ہند۔ترکی باہمی تعلقات میں مزید استحکام کی ضرورت پر زور
مودی ۔ اردوغان بات چیت ،مشترکہ پریس کانفرنس اور بزنس چوٹی کانفرنس سے خطاب
نئی دہلی ۔ یکم مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اور ترکی نے دہشت گردی کے مسلسل لاحق خطرہ کو ’ایک مشترکہ پریشانی‘قرار دیتے ہوئے آج کہاکہ کسی بھی وجہ یا جواز سے دہشت گردی کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ چنانچہ ایسی ( دہشت گرد ) قوتوں کی تائید کرنے یا انھیں پناہ دینے والوں کے خلاف سخت قدم اٹھایا جانا چاہئے ۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے آج یہاں اپنی ملاقات کے دوران جامع تبادلہ خیال اور سیاسی و اقتصادی اُمور کے بشمول مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ بعد ازاں اردوغان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہاکہ ’’ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہمارے معاشروں کو ہر دن نئے خطرات اور چیلنجوں کا سامنا رہتا ہے ۔ جس سے ساری دنیا کیلئے پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجس ہمارے لئے مشترکہ طورپر باعث فکر و تشویش ہیں ‘‘ ۔اردوغان نے اپنے دورۂ ہند کے آغاز سے قبل مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کیلئے ہمیشہ مذاکرات کی پرزور حمایت کی تھی ۔ ان کے یہ ریمارکس مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کے موقف سے متضاد ہیں۔ اس دوران ہند ۔ ترکی تجارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے ترکی کے بزنسمین اور صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ یہاں توانائی ، سڑک ، بندرگاہوں اور امکنہ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں اور کہا کہ ہندوستان اب سرمایہ کاری کیلئے جس حد تک سازگار اور پسندیدہ مقام ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھا ۔ اس کانفرنس میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی شرکت کی ۔ وزیراعظم مودی نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں قابل لحاظ اضافہ کی ضرورت کو اُجاگر کیا۔ ترکی کے صدر طیب اردوغان نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پرزور وکالت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی موقعوں کی حقیقی صلاحیتوں تک رسائی حاصل کی جانی چاہئے۔ اردوغان نے ہندوستانی بزنسمین پر زور دیا کہ وہ ترکی میں سرمایہ کاری کریں اور کہا کہ ان کا ملک سرمایہ کاری و پیداوار کیلئے ایک مثالی اور انتہائی سازگار مقام ہے ۔ ترکی کے صدر رجب طیب کے اس دورہ میں اُن کی شریک حیات آمینہ اردوغان کے علاوہ متعدد سینئر وزراء بھی 150 رکنی تجارتی وفد میں شامل ہیںجو ہند۔ ترکی بزنس فورم کے اجلاس میں شرکت کررہے ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT