Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی کو مذہب سے غیرمربوط کیا جائے

دہشت گردی کو مذہب سے غیرمربوط کیا جائے

بعض ممالک کیلئے سرکاری پالیسی آلۂ کار ، عالمی برادری امتیازی سلوک ترک کرے ، وزیراعظم نریندر مودی کا G-20 اجلاس سے خطاب
انطالیہ ۔16 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) دہشت گردی کو مذہب سے غیرمربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ بعض ممالک دہشت گردی کو ’’سرکاری پالیسی کے آلۂ کار ‘‘ کے طورپر استعمال کررہے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ انتہاپسندی کے خلاف ساری دنیا کو سیاسی ترجیحات کے بغیر فوری کارروائی کرنی چاہئے ۔ نریندر مودی نے کہاکہ دہشت گردی آج سب سے بڑا عالمی چیلج ہے ۔ یہ کئی علاقوں سے ہوتا ہوا مختلف شہروں کی سڑکوں تک وسعت اختیار کرگیا ہے ۔ دہشت گردی کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے ۔ پیرس دہشت گرد حملے کے پس منظر میں G-20 چوٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ دہشت گردی کی قدیم ساخت اب بھی جوں کی توں ہے ۔ ایسے کئی ممالک ہیں جو اسے سرکاری پالیسی کے آلۂ کار کے طورپر استعمال کررہے ہیں۔ دنیا کو اس معاملے میں ایک آواز اُٹھانی ہوگی اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ہوگا ۔ اس معاملے میں کسی طرح کی سیاسی رعایت نہیں کی جاسکتی ۔ انھوں نے کہاکہ دہشت گروپس یا دہشت گرد مملکت کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئے ۔ ہم اُن سب کو الگ تھلگ کردیں جو دہشت گردی کی تائید یا اُس کی سرپرستی کررہے ہیں اور اُن لوگوں کا ساتھ دیں جو انسانی اقدار کا احترام کرتے ہیں۔ ہمیں بین الاقوامی قانونی طریقہ کار کو ازسرنو مدون کرنا ہوگا تاکہ دہشت گردی کے انوکھے چیلنج سے نمٹا جاسکے ۔ وزیراعظم نریندر مودی G-20 کے ورکنگ ڈنر سے خطاب کررہے تھے جو ’’دہشت گردی کے عالمی چیلنجس اور پناہ گزیں بحران ‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوا تھا ۔ مودی نے کہاکہ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ دہشت گردی کی شکل بدل رہی ہے ۔ اس کے عالمی روابط ہیں ، اس کی شاخیں ہیں اور سرکاری سرپرستی میں دہشت گردی کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ تقررات و تشہیر کیلئے سائبر ٹکنالوجی استعمال ہورہی ہے ۔ ایک کھلے اور آزاد سماج و کثرت میں وحدت کو ایک نئی سطح پر خطرہ لاحق ہوا ہے ۔ تقررات کے علاقہ اور جن نشانوں پر حملے کئے جارہے ہیں وہ سب ایک ہی ہیں اور سماج بھی ایک ہی ہے ۔ مودی نے کہا کہ سلامتی کیلئے عالمی ضابطہ کی ازسرنو تشریح کی جانی چاہئے کیونکہ آج دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے جامع عالمی لائحہ عمل نہیں پایا جاتا ۔ انھوں نے کہاکہ G-20 قائدین کو چاہئے کہ وہ بین الاقوامی دہشت گردی پر جامع کنونشن کو بنا کسی تاخیر کے منظور کریں۔مودی نے مذہبی رہنماؤں ، دانشوروں اور نظریہ سازوں کو شامل کرتے ہوئے انتہاپسندی کے خلاف سماجی تحریک شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس میں خاص طورپر نوجوانوں پر توجہ دی جائے ۔  وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ اُن کی حکومت کرپشن کی روک تھام اور اندرون ملک کالا دھن کے حصول کیلئے نیا قانون متعارف کرے گی ۔ اس کے علاوہ انھوں نے بیرون ملک جمع غیرقانونی رقم کی واپسی کیلئے وسیع تر عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ۔ انھوں نے کہاکہ بنکنگ رازداری کی ضرورت سے زیادہ رکاوٹیں تمام ممالک کو دور کرنی چاہئے اور یکساں نظام متعارف کیا جانا چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستان کرپشن اور کالا دھن کے معاملے میں کوئی رواداری نہیں برتے گا ۔ اس ضمن میں انھوں نے حکومت کی کوششوں بشمول ایک نئے قانون کو متعارف کرنے کا ذکر کیا ۔ انھوں نے کہاکہ اندرون ملک غیرمحسوب رقومات کے خلاف ہم نے موثر مہم شروع کی ہے اور پبلک پروکیورمنٹ پر بہت جلد نئی قانون سازی کی جائے گی ۔ انھوں نے کھلے عالمی مالی نظام کی تشکیل کیلئے G-20 کی کامیاب کوششوں کی سراہنا کی ۔ انھوں نے کہاکہ ہندوستان میں سنٹرل بینک اور حکومت مالی اور بینکنگ شعبہ کو مزید مستحکم کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT