Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی کیخلاف سعودی عرب کی زیر قیادت اسلامی فوجی اتحاد

دہشت گردی کیخلاف سعودی عرب کی زیر قیادت اسلامی فوجی اتحاد

۔34 مسلم ممالک کا شمولیت سے اتفاق، ریاض میں سنٹر قائم ہوگا، ایران، شام اور عراق نظرانداز

ریاض ۔ 15 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب نے آج دہشت گردی کے خلاف لڑائی کیلئے ایک نئے ’’اسلامی فوجی اتحاد‘‘ کی تشکیل کا اعلان کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا کہ 34 ممالک میں اس میں شمولیت سے اتفاق کیا ہے۔ اس اتحاد کا مرکز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم کیا جائے گا لیکن اس میں شیعہ اکثریتی ایران، شام یا عراق کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہوا کہ اس اتحاد کے کام کا انداز کیا ہوگا۔ سعودی کی سرکاری سعودی پریس ایجنسی نے یہ اطلاع دی جس میں وضاحت کی گئی ہیکہ اسلامی اتحاد کی قیادت سعودی عرب کرے گا جس کا واحد مقصد یہ ہیکہ دہشت گردی کو اس کی ہر شکل میں شکست فاش سے دوچار کرنا ہے جس کیلئے متعدد ممالک کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ اسلام نے دنیا میں بدعنوانیوں اور تباہی سے منع فرمایا ہے اور دہشت گردی (جو تباہی کا دوسرا نام ہے) کے ذریعہ آج سارے انسانی حقوق اور وقار کو پامال کیا جارہا ہے خصوصی طور پر زندگی گذارنے کا ہر ایک کو حق ہے لیکن انہیں ہلاک کرتے ہوئے زندگی کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ تحفظ بھی ہر ایک کی زندگی کا لازمی جزو ہے لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا کے کسی ملک میں بھی دہشت گردی کی وجہ سے تحفظ کی کوئی طمانیت موجود نہیں ہے۔

انسداد دہشت گردی کیلئے جن ممالک کو اتحاد کا حصہ بنایا جائے گا ان کی خود اپنی بڑی اور تجربہ کار فوجیں ہیں جیسے پاکستان، ترکی اور مصر جبکہ جنگ زدہ علاقوں میں حالت جنگ میں موجود شام اور یمن کی فوجیں بھی اپنی خدمات فراہم کریں گی۔ دوسری طرف ایسے افریقی ممالک جنہوں نے دہشت گرد حملوں کا سامنا کیا ہے جیسے مالی، چاڈ، صومالیہ اور نائجیریا بھی ’’اسلامی فوجی اتحاد‘‘ کے رکن ہوں گے۔ سعودی عرب کے علاقائی حریف ایران ’’اسلامی فوجی اتحاد‘‘ کا حصہ نہیں ہوگا کیونکہ یمن اور شام میں اس وقت جو خانہ جنگی چل رہی ہے اس میں سعودی عرب اور ایران مخالف گروپس کی تائید کررہے ہیں۔  یاد رہے کہ فی الحال سعودی عرب یمن میںشیعہ حوثیوں کے خلاف فوجی مداخلت کرتے ہوئے ان سے نبردآزما ہے اور عراق اور شام امریکی قیادت میں دولت اسلامیہ گروپ پر جو بمباری کی جارہی ہے، اس کا بھی حصہ ہے۔ ایک نیوز کانفرنس میں سعودی کے نائب ولیعہد شہزادہ اور وزیردفاع محمد بن سلمان نے کہا کہ نیا اسلامی فوجی اتحاد سنی انتہاء پسند دولت اسلامیہ گروپ سے نبردآزما ہوگا جبکہ دیگر ممالک کی شمولیت کیلئے بھی ایک میکانزم تیار کیا جائے گا۔ دیگر ممالک کے علاوہ مختلف بین الاقوامی مجالس یس بھی خواہش کی گئی ہیکہ وہ اس طرح دہشت گردی سے نمٹنے اور اس کی مکمل بیخ کنی کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تائید کریں۔ آج اگر حالات حاضرہ کا جائزہ لیا جائے تو ہر مسلم ملک انفرادی طور پر دہشت گردی سے نبردآزما ہے۔ لہٰذا باہمی تعاون کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔ محمد بن سلمان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مشترکہ ایکشن سنٹر ریاض میں واقع ہوگا تاکہ عالم اسلام میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون اور روابط کا قیام عمل میں آسکے۔ اس اسلامی فوجی اتحاد میں چھوٹے ممالک جیسے مالدیپ، بحرین، دیگر خلیجی ممالک جیسے کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہوں گے جبکہ حیرت انگیز طور پر اس فہرست سے سعودی عرب کے پڑوسی عمان کا نام غائب ہے ۔

TOPPOPULARRECENT