Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی کیخلاف ہند ۔ چین تعاون کے منفرد اثرات یقینی

دہشت گردی کیخلاف ہند ۔ چین تعاون کے منفرد اثرات یقینی

باہمی تعلقات کو نمایاں اہمیت، منگل کو دورہ بیجنگ کے آغاز سے قبل صدر پرنب مکرجی کا انٹرویو
نئی دہلی ۔ 18 مئی (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مہم میں چین کے ہندوستان سے ہاتھ ملانے کے منفرد اثرات مرتب ہوں گے۔ بیجنگ نے حال ہی میں مسعود اظہر کا نام اشتہاری دہشت گردوں کی اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل کرنے کی کوششوں کو روک دیا تھا، جس کے پس منظر میں صدرجمہوریہ کے یہ تبصرے منظرعام پر آئے ہیں۔ صدر پرنب مکرجی نے آئندہ ہفتہ اپنے دورہ چین سے قبل سرکاری ٹیلی ویژن چینل سی سی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’’ہندوستان اور چین دو بہت بڑے ممالک ہیں۔ جو ہمہ نسلی اور ہمہ تہذیبی ہیں۔ اگر وہ اس دہشت گردی کی لعنت کے خلاف مشترکہ طور پر آگے آتے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ اس کے بہترین اثرات مرتب ہوں گے۔ ہندوستان کا ہمیشہ ہی یہ یقین رہا ہیکہ ہر ملک کو دہشت گردی کے خلاف کوئی مروت و رعایت نہیں کرنا چاہئے اور اس کے خلاف بھرپور لڑائی جاری رکھنا چاہئے‘‘۔ وہ دہشت گردی سے متعلق ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ 2001ء میں پارلیمنٹ پر کئے گئے حملے اور 2016ء کے پٹھان کوٹ حملوں کے اصل سازشی سرغنہ اور جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا نام عالمی دہشت گردی کی فہرست میں شامل کروانے ہندوستان کی کوششوں کی چین نے مارچ کے دوران اقوام متحدہ میں مخالفت کی تھی۔ صدر ہند نے کہا کہ دونوں ملکوں کے ’’جامع تعلقات‘‘ ہیں اور ہندوستان، چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو نمایاں اہم تصور کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں جس کے اقتباسات آج نشر کئے گئے کہا کہ ’’میں کہہ سکتا ہوں کہ عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ ہمارے انتہائی جامع تعلقات ہیں اور ہم تصور کرتے ہیں کہ یہ تعلقات ہمارے لئے غیرمعمولی اہمیت کے حامل ہیں۔

اس ملک کے سرکاری دورہ کی بھی اپنی منفرد اہمیت ہے کیونکہ اس سے دونوں ملکوں کے قائدین کو اپنے نظریات کے تبادلے کا موقع فراہم ہوگا۔ دونوں ملکوں کے مابین تعاون کے فروغ کی امکانات تلاش کئے جاسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں علاقائی، عالمی اور ہمہ فریقی مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے‘‘۔ چین نے اقوام متحدہ کی تحدیدات کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ وہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز ملتوی رکھے۔ تاہم ہندوستان نے اس کمیٹی سے کہا تھا کہ مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہ کرنے سے اس (ہندوستان) اور جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کو اس دہشت گرد گروپ اور اس کے سربراہ سے مزید سنگین خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ اقوام متحدہ اگر 2001ء میں جیش محمد پر امتناع عائد کرچکی ہے لیکن مسعود اظہر پر امتناع عائد کروانے کیلئے ہندوستان کی مساعی محض سلامتی کونسل میں ویٹو طاقت کے حامل ملک چین کی مخالفت کے سبب کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ سمجھا جاتا ہیکہ پاکستان کی ایماء پر چین نے مسعود اظہر پر امتناع کی کوششوں کی مخالفت کی تھی۔ امریکی محکمہ فینانس نومبر 2010ء میں ہی مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT