Friday , October 20 2017
Home / عرب دنیا / دہشت گردی کی سرکاری سرپرستی کی مذمت

دہشت گردی کی سرکاری سرپرستی کی مذمت

ابوظہبی/ دبئی ۔ 17 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے باہمی پارٹنرشپ کو ایک نئی جہت عطا کرتے ہوئے ان ممالک کی سخت مذمت کی جو دہشت گردی کی سرپرستی کرر ہے ہیں۔ انہوں نے تمام ایسے ممالک سے دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو تباہ و تاراج کرنے پر زور دیا اور یہ واضح اشارہ پاکستان کی طرف ہے۔دہشت گردی کی تمام اشکال اور صورتوں کی مخالفت و مذمت کرتے ہوئے تمام ممالک سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کے استعمال کا طریقہ کار ترک کریں۔ دونوں ممالک نے دہشت گرد کارروائیاں انجام دینے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے پر زور دیا۔ یو اے ای ولیعہد محمد بن زاید آل نیہان اور وزیراعظم نریندر مودی کی آج ملاقات ہوئی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں قائدین کے 31 نکاتی بیان میں دہشت گردی کی تمام شکلوں بشمول سرکاری سرپرستی کی مذمت کی گئی۔ نریندر مودی خلیجی مملکت کا 34 سال کے بعد دورہ کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیراعظم ہیں۔ انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں باہمی تعاون ، انٹلیجنس معلومات کے تبادلے اور ٹھوس اقدامات سے اتفاق کرتے ہوئے نریندر مودی اور ولیعہد نے مذہبی شدت پسندی اور بعض گروپ اور ممالک کی جانب سے مذہب کے بیجا استعمال کو روکنے کی کوششوں میں بھی باہمی تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ گروپس اور ممالک نفرت کو بھڑکا کر اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے دہشت گردی کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے باہمی ، علاقائی اور بین الاقوامی موضوعات جیسے تجارت ، سیکوریٹی ، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرات پر وسیع تبادلہ خیال کیا۔ دونوں قائدین نے اس ضمن میں کئی اقدامات کا بھی فیصلہ کیا ہے جن میں سیکوریٹی مذاکرات اور این ایس اے سطح کے مذاکرات بھی شامل ہیں۔ نریندر مودی نے دبئی کے حکمراں اور وزیراعظم یو اے ای محمد بن راشد آل مکتوم سے وسیع تر امور پر تبادلہ خیال کیا۔ نریندر مودی اور ولیعہد نے انسداد دہشت گردی کارروائیوں اور انٹلیجنس معلومات کے تبادلے اور موثر اقدامات کیلئے باہمی تعاون میں اضافہ سے اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ فنڈس کے بہاؤ پر کنٹرول ، اسے باقاعدہ بنانے اور اس ضمن میں معلومات کے تبادلے سے بھی اتفاق کیا تاکہ یہ رقومات شدت پسند سرگرمیوں پر خرچ نہ ہوسکے۔ دونوں ممالک نے غیر قانونی طور پر رقومات کے لین دین پر نظر رکھتے ہوئے باہمی تعاون اور متعلقہ افراد و تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا بھی فیصلہ کیا ۔ معتمد خارجہ ایس جئے شنکر سے جب یہ پوچھا گیا کہ انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم اور یو اے ای میں اس کے اثاثہ جات کی قرقی کا مسئلہ اٹھایا گیا تو انہوں نے راست جواب دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف موضوعات  پر وسیع تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اعلیٰ سطحی دورہ میں عام طور پر پالیسی فیصلوں پر توجہ دی جاتی ہے۔ دونوں ممالک نے انتہا پسندی اور مذہب و دہشت گردی کے مابین کسی بھی طرح کے ربط کو مسترد کردیا۔ ان میں بعض ایسے ممالک بھی شامل ہیں جو مذہب کو استعمال کرتے ہوئے دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کی تائید اور سرپرستی کرتے ہوئے اسے منصفانہ قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے بعض ممالک کی جانب سے سیاسی مسائل اور تنازعات کو مذہبی و مسلکی رنگ دینے کی کوششوں کی بھی مذمت کی۔ ان میں مغربی اور جنوبی ایشیاء بھی شامل ہے جو اپنے مقاصد کے لئے اس طرح کے کام کر رہے ہیں۔ نریندر مودی دو روزہ دورہ پر کل ابو ظہبی پہنچے اور انہوں نے سرکردہ تجارتی شخصیتوں سے بھی ملاقات کی۔ دونوں ممالک نے باہمی معاشی روابط کو مستحکم کرنے سے بھی اتفاق کیا ہے اور کہا کہ ہندوستان میں سرمایہ کاری کو انفراسٹرکچر فنڈ کے ذریعہ  75 بلین ڈالر (پانچ لاکھ کروڑ روپئے) تک کردیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ آئندہ پانچ سال میں دونوں ممالک باہمی تجارت  کو تقریباً 100 بلین ڈالر تک پہنچائیں گے۔ ولیعہد محمد بن زاید آل نیہان نے یو اے ای میں انفراسٹرکچر کے فروغ میں ہندوستانی کمپنیوں کو شراکت داری کی سہولت بہم پہنچانے سبھی اتفاق کیا۔ دونوں قائدین کی ملاقات کے بعد مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں معاشی تعاون اور دیگر کئی امور کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT