Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / دہشت گردی کے الزامات سے 4 مسلم نوجوان باعزت بری

دہشت گردی کے الزامات سے 4 مسلم نوجوان باعزت بری

ممبئی10اپریل(سیاست ڈاٹ کام)منگلور شہر کی ایک خصوصی عدالت نے آج یہاں ممنوع دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین کے رکن ہونے اور انڈین مجاہدین نامی تنظیم کے مبینہ بانیوں بھٹکل برادران کو آندھرا پردیش اور کرناٹک میں ہوئے بم دھماکوں کے ملزمین کو پناہ دینے کے معاملے میں 4مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیاجبکہ یہی الزامات کے تحت گرفتار تین مسلم نوجوانوں کو عدالت نے قصور وار ٹہرایا ہے اوران کی سزاؤں کا تعین 12 اپریل کو کیا جائے گا۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امدا د فراہم کرنے والی تنظیم جمعیت علماء4 مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزمین سید احمد نوشاد، احمد باوا ابوبکر اور فقیر احمد کو عدالت نے قصور وار ٹہرایا ہے جبکہ محمد علی، جاوید علی، شبیر احمد اور محمد رفیق کو باعزت بری کردیا۔گلزار اعظمی نے بتایا کہ ماہ اکتوبر2008میں ریاض بھٹکل اور دیگر انڈین مجاہدین تنظیم سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو پناہ دینے نیز انڈین مجاہدین تنظیم سے وابستہ ہونے کے الزامات کے تحت منگلور پولس نے سید محمد نوشاد، احمد باوا، محمد علی، جاوید علی،، محمد رفیق ، فقیر احمد اور شبیر بھٹکل کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 120(B), 121(A), 122,123,153(A) 122,420, 468,471 اوریو اے پی اے قانون کی دفعات 10, 11, 13,16,17,18,19,20,21 سمیت آرمس ایکٹ اور ایکسپلوزیو سبسٹنس کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا۔گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے کا سامنا کررہے سات ملزمین کو عدالت نے دو سالوں کی قید کے بعد ضمانت پر رہا کیا تھا لیکن معاملے کے سماعت شروع ہونے میں پانچ سال کا وقت لگ گیا، 13 جنوری2016کو ملزمین کے خلاف چارجز فریم کئے گئے اور اس کے فوراً بعد دفاعی وکلاء کی عرضداشت پر18 جنوری سے ٹرائل شروع کردی گئی۔منگلور کی خصوصی عدالت کے روبرو استغاثہ نے ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لئے 90گواہوں کو پیش کیا جس میں پولس افسران،تحقیقاتی افسران، فارینسک سائنس لیباریٹری کے اہل کار اور دیگر شامل ہیں۔جمعیت علماء نے ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ وکرم ہیگڑے ، ایڈوکیٹ شانتارام شیٹی اور ایڈوکیٹ نارائنا پجاری کو مقرر کیا تھا جنہوں نے سرکاری گواہوں سے جرح کی۔گلزار اعظمی نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت مہینہ میں پانچ دن لگاتار ہوتی تھی اور ہر پیشی پر سرکاری گواہوں کی موجودگی کو عدالت نے لازمی قرار دیا تھا جس کے بعد ہی ایک ریکاڑد مدت میں مقدمہ کی سماعت مکمل ہوگئی جس کے بعد آج عدالت نے اپنا فیصلہ صادر کردیا۔انہوں نے کہا کہ ملزمین نے مقدمہ کی سماعت شروع ہونے سے قبل جمعیت علماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی سے انہیں قانونی امداد فراہم کئے جانے کی درخواست کی تھی جس کے بعد چارج شیٹ اور دیگر عدالتی دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد جمعیت علماء نے ملزمین کو قانونی امداد فراہم کیئے جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT