Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہند۔ برطانیہ کا اتفاق

دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہند۔ برطانیہ کا اتفاق

دہشت گردی کے سرپرستوں کیخلاف کارروائی پر زورمودی اور تھریسا مے کی پریس کانفرنس ، دو یادداشتوں پر دستخط
نئی دہلی ۔ 07 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اور برطانیہ نے آج دہشت گردی پر گہری تشویش کااظہار کیا اور منظم جرائم کے علاوہ ویزا کے مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے اُمور داخلہ کے اُمور و مسائل پر حکمت عملی کے مذاکرات کے آغاز سے اتفاق کیا ۔ دونوں ملکوں نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ دہشت گردی ’’ سلامتی کا محض محدود خطرہ نہیں ہے ‘‘ بلکہ مختلف ممالک اور علاقوں تک پھیلا ہوا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی برطانوی ہم منصب تھریسا مے نے تجارت ، سرمایہ کاری ، سکیورٹی اور دفاع جیسے مسائل پر وسیع تر تبادلہ خیال کے بعد پاکستان پر زور دیاکہ نومبر 2008 ء کے ممبئی دہشت گرد حملوں اور 2016 ء کے پٹھان کوٹ حملے کے سازشی عناصر کو انصاف کے کٹھیرے میں کھڑا کیا جائے ۔ مودی نے تھریسا مے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں کی اُبھرتی ہوئی طاقتوں کی سرکوبی کیلئے بامقصد جامع بات چیت کی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے اس بات سے اتفاق کیا کہ یہ سکیورٹی چیلنج نہیں ہے ۔ یہ خطرہ کا ایسا نشان ہے جو مختلف اقوام اور علاقوں تک پھیلتا جارہا ہے ۔ دہشت گرد بڑی آسانی کے ساتھ سرحد پارکررہے ہیں اور ساری انسانیت کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں۔ دہلی کے تاریخی حیدرآباد ہاوز میں باہمی مذاکرات کے بعد اس مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران مودی نے مزید کہا کہ ’’سرحدپار دہشت گردی کے بارے میں وزیراعظم سے میں اپنی گہری تشویش ظاہر کرچکا ہوں اور دیکھ چکا ہوں کہ دہشت گردی کی تائید و سرپرستی کرنے والے ملکوں کے خلاف    بین الاقوامی برادری کو سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ‘‘ ۔ تھریسا مے نے کہا کہ دوملکوں کو انفرادی ملک کی حیثیت سے دہشت گردی کے مشترکہ خطرات لاحق ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہندو برطانیہ دو اہم حلیف اور عالمی طاقتیں ہیں اور باہمی تعاون کو مستحکم بنانے سے اتفاق کرچکے ہیں۔ بالخصوص انتہاء پسندوں کی طرف سے انٹرنیٹ کے استعمال کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے دونوں ملکوں نے اپنے تجربات اور مہارت کے تبادلہ سے اتفاق کیا ہے۔ دونوں وزرائے اعظم کی بات چیت کے اختتام کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں حزب المجاہدین کے مہلوک کمانڈر برہان وانی کو پاکستان کی طرف سے شہید قرار دیئے جانے کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے کہاگیا کہ ’’دہشت گردوں کی کسی بھی صورت میں ستائش یا مدح سرائی نہیں کی جاسکتی نیز اچھے یا بری دہشت گردوں کے نام پر ان میں فرق پیدا کرنے کی مساعی نہیں کی جانی چاہئے ‘‘۔ وزیراعظم برطانیہ نے کہا کہ ایک ارب 12 کروڑ برطانوی پاؤنڈ کی سرمایہ کاری سے ایک مشترکہ فنڈ قائم کیا جائیگا جس سے ہندوستان کے انفراسٹرکچر کو مالیہ فراہم کیا جائے گا ۔ دونوں ممالک نے دو مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے جس سے انٹلکچول پراپرٹی رائیٹس کے شعبہ میں باہمی تجارت اور تعاون میں اضافہ ہوگا اور ہندوستان میں برطانیہ کیلئے تجارت کرنا آسان ہوجائیگا ۔ علاوہ ازیں ڈی ریگولیشن اور ٹیکس کے مسائل میں دونوں ممالک تکنیکی مہارت کے شعبہ میں اشتراک کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT