Friday , October 20 2017
Home / ہندوستان / دہشت گردی کے خطرہ سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی تعاون ناگزیر

دہشت گردی کے خطرہ سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی تعاون ناگزیر

آسیان ممالک کے تنازعات میں ہندوستان مداخلت نہیں کرے گا۔ نائب صدرجمہوریہ کا بیان

خصوصی طیارہ سے 19 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری نے کہا ہے کہ آسیان ممالک کے ساتھ ہندوستان جامع تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے لیکن وہ ان ممالک کے علاقائی یا سمندری حدود کے تنازعات میں ملوث نہیں ہوگا۔ کمبوڈیا اور لاؤس کے 4 روزہ دورہ سے واپسی کے دوران خصوصی طیارہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ جنوب مشرقی ایشیاء پر ہندوستان کا نقطہ نظر واضح ہے اور ہم ایک دوسرے کی طمانیت بخش ضروریات کی بنیاد پر جامع باہمی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ نائب صدرجمہوریہ نے کہاکہ اب ضرورت امن، استحکام اور ترقی کی ہے۔ اگر امن اور استحکام نہ ہو تو پھر کوئی تجارت، سرمایہ کاری اور کاروبار بھی نہیں ہوگا اور ہندوستان کا یہ جدید نقطہ نظر بن گیا ہے۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ ایسے وقت جنوب مشرقی ایشیائی ممالک علاقائی اور سمندری حدود کے تنازعات کا شکار ہے کیا ہندوستان ایک مستحکم طاقت بن کر اُبھر سکتا ہے۔ مسٹر حامد انصاری نے ازراہ مذاق کہاکہ ہم استحکام فراہم کرنے کا کاروبار نہیں کرتے اور یہ کام شپ بلڈنگ انڈسٹری کرتی ہے۔ یہ ادعا کرتے ہوئے کہ آسیان ممالک کے ساتھ ہندوستان کے خوشگوار تعلقات ہیں، مسٹر انصاری نے کہاکہ اگر ان ممالک کے درمیان کوئی مسئلہ درپیش ہو تو ان کے پاس ایک میکانزم موجود ہے جس کے ذریعہ یہ مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔ دہشت گردی کے مسئلہ پر انھوں نے کہاکہ یہ خطرہ اب بین الاقوامی سطح پر چھا گیا ہے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعہ ہی اس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دہشت گردی کسی ایک خاص ملک کا مسئلہ ہے اور دوسرے ملک کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ عسکریت پسند گروپوں کے درمیان کس نوعیت کا رابطہ ہے۔ جس کے پیش نظر بین الاقوامی تعاون وقت کا اہم تقاضہ بن گیا ہے یہ ہماری مرضی پر منحصر نہیں ہے کہ ایک ملک سے تعاون کرے اور دوسرے کو نظرانداز۔ کمبوڈیا اور لاؤس کے دورہ کے موقع پر اعلیٰ قیادت کے ساتھ مذاکرات اور باہمی معاشی تعلقات پر معاہدہ یادداشت مفاہمت پر تبصرہ کرتے ہوئے مسٹر حامد انصاری نے کہاکہ دونوں ممالک میں صورتحال خوشگوار تھی جبکہ ان ممالک کے ساتھ بیرونی تعلقات کو فروغ دینے کا عہد کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT