Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی کے خلاف ہند۔کرغستان کی متحدہ جدوجہد

دہشت گردی کے خلاف ہند۔کرغستان کی متحدہ جدوجہد

باہمی تعلقات کو فروغ دینے پر نریندر مودی اور علماز بیک اتمبائیف کا اتفاق
نئی دہلی۔/20ڈسمبر، ( سیاست نیوز) باہمی تعلقات کو نئی جہت عطا کرتے ہوئے ہندوستان اورکرغستان نے آج 6مطاہدے بشمول سرمایہ کاری کے فروغ پر دستخط کئے ہیں جس میں دہشت گردی ، مذہبی شدت پسندی اور انتہا پسندی کے چلینج کا مشترکہ مقابلہ کرنے سے اتفاق کرلیا گیا ہے۔ جامع اور وسیع تر مذاکرات میں وزیر اعظم نریندر مودی اور کرغستان کے صدر علماز بیک اتمبائیف نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ دفاع، سیکوریٹی، کانکنی، انفارمیشن ٹکنالوجی، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں تعلقات کو مضبوط کیا جائے۔مشترکہ پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ہم نے یہ تبادلہ خیال کیاہے کہ ہمارے نوجوانوں اور سماج کو دہشت گردی ، انتہا پسندی اور شدت پسندی ( کٹر پن ) کے چیلنجس سے محفوظ رکھنے کیلئے کس طرح مل جل کر کام کرسکتے ہیں۔ اس پس منظر میں دونوں قائدین نے بین الاقوامی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ ایک جامع عہدنامہ منظور کرنے کی ضرورت کو اُجاگر کیا۔ہند کرغستان تعلقات پرتبصرہ کرتے ہوئے علماز بیک اتمبائیف نے کہا کہ باہمی تجارت کے موجودہ حکم پر وہ ناخوش ہیں جبکہ توسیع دینے کے کافی امکانات پائے جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک میں نہ صرف تاریخی روابط ہیں بلکہ جمہوریت اور اظہار خیال کو آزادی کے معاملہ میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ ثقافتی تعلقات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ کرغستان میں آج بھی بالی ووڈاداکار راج کپور مقبول عام ہیں۔ مہمان صدر نے اقوام متحدہ سیکوریٹی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کے دعویٰ کی بھی تائید کا اعلان کیا۔کرغزستان کے صدر علمازبیک شارشینووچ اتمبائیف کے ساتھ حیدرآباد ہاؤس میں سربراہی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے یہ بات کہی۔ دونوں ممالک نے نوجوانوں، ثقافت، سیاحت، زراعت، فوڈ پروسیسنگ، سفارتی اور بصری اورسمعی وسائل کے تبادلے سے منسلک چھ اہم معاہدوں پر دستخط کئے ۔مسٹر مودی نے اپنے بیان میں کہا، ”ہم نے اس بات پر بات کی ہے کہ ہم کس طرح سے اپنے نوجوانوں اور معاشرے کو دہشت گردی ،انتہا پسندی اور کٹر پن کی مشترکہ چیلنج کے خلاف محفوظ کرسکتے ہیں۔ ہم باہمی مفاد کے لیے ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مل جل کر رابطے کے ساتھ کام کرنے پر اتفاق کیا”۔مسٹر اتمبائیف اپنی بیوی محترمہ رئیسہ اتمبائیف ، اس کے اہم کابینی ساتھیوں اور ایک 50 رکنی تجارتی وفد کے ساتھ آئے ہیں۔ صدر کے طور پر یہ ان کی پہلا دورہ ہندہے ۔

مسٹر اتمبائیف کا صدر پرنب مکھرجی نے صدارتی محل میں استقبال کیا۔ ہندوستان اور کرغزستان کے درمیان 2500 سال پرانے تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور دفاع، اقتصادی اور تجارتی، تعلیمی اور انسانی وسائل کی ترقی، ثقافت اور سیاحت سمیت مختلف علاقوں میں قریبی تعاون ہو رہا ہے ۔ کرغزستان ہندوستان کو کتنا احترام کرتا ہے ، اس کا ثبوت دارالحکومت بشکیک میں مہاتما گاندھی کا مجسمہ دیکھ کر ہوتا ہے جو شہر کے مرکز ی پوائنٹ میں اہم پارک میں لگایا گیا ہے ۔ کرغزستان یوگا کو بھی اہمیت دیتا ہے ۔ دفاعی تعلقات میں تربیت کے ساتھ ساتھ انتہائی اونچائی والے پہاڑی علاقے میں تعینات فوجیوں کو ہونے والے امراض کے علاج کے لیے ایک تحقیقی مرکز کو لے کر بھی تعاون ہو رہا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم مسٹر مودی نے سال 2015 میں کرغزستان سمیت تمام وسطی ایشیائی ممالک کا دورہ کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT