Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / دہشت گردی کے لیے اکسانے کا الزام ’ شیطانی فتور ‘ : ذاکر نائیک

دہشت گردی کے لیے اکسانے کا الزام ’ شیطانی فتور ‘ : ذاکر نائیک

’ حکومت بنگلہ دیش بھی نہیں سمجھتی کہ میں نے کسی کو دہشت گردی کے لیے اکسایا تھا ؟ ‘
ممبئی ۔ 9 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام) : متنازعہ اسلامی مبلغ ذاکر نائک نے جو اپنی تقاریر سے ڈھاکہ حملہ اوروں کے متاثر ہونے کی اطلاعات کے سبب تنقیدوں کا سامنا کررہے ہیں ۔ آج دعویٰ کیا کہ حکومت بنگلہ دیش کے کسی بھی عہدیدار نے ہرگز یہ نہیں کہا ہے کہ انہوں ( ذاکر نائیک ) نے کبھی کسی کو دہشت گردی کی کسی حرکت کے لیے اکسایا تھا ۔ ڈاکٹر نائک نے کہا کہ ’ میں بنگلہ دیشی حکومت کے افراد سے بات چیت کرچکا ہوں ۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ میں نے بنگلہ دیشی دہشت گردوں کو بے قصور افراد کی ہلاکتوں کو ہلاک کرنے کی اس حرکت کے لیے اکسایا تھا ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ ( حملہ میں مبینہ طور پر ملوث دہشت گرد ) میرا مداح تھا ‘ ۔ ڈاکٹر ذاکر نائک نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’ ساری دنیا میں میرے کروڑوں مداح ہیں ۔ 50 فیصد سے زائد بنگلہ دیشی میرے مداح ہیں لیکن یہ کہنا کہ میں نے اس ( حملہ آور ) کو بے قصور انسانوں کو ہلاک کرنے کے لیے اکسایا تھا تو یہ ایک شیطانی فتور ہوگا ‘ ۔ ذاکر نائک نے جو فی الحال سعودی عرب میں ہیں کہا کہ دنیا میں برطانیہ ہی واحد ملک ہے جس نے ان کے داخلہ پر امتناع عائد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’ جہاں تک میں جانتا ہوں برطانیہ نے مجھے ایک مرتبہ داخلہ سے روک دیا تھا ۔ میرے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کسی ملک نے سرکاری طور پر میرے داخلہ پر پابندی عائد کی ہے ۔ اور پھر ملایشیا؟ ۔ یہ ( قیاس ) غیر منطقی ہے کیوں کہ تین سال سے بھی کم عرصہ قبل مجھے ٹوکوہ مال ہجرہ ایوارڈ اور ملک فیصل انٹرنیشنل ایوارڈ دیا گیا تھا جو ملائیشیا کا اعلیٰ ترین ایوارڈ ہے ۔۔ ‘ ڈاکٹر ذاکر نائک نے مزید کہا کہ ’ گذشتہ 25 برس کے دوران میں وہ چوتھا بیرونی شخص ہوں جنہیں یہ ایوارڈ حاصل ہوا ہے ۔ کیا وہ ایسے شخص کو ایوارڈ دیں گے جو دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے ؟ ہندوستانی اخبارات نے ڈھاکہ کے ایک اخبار کی رپورٹ اٹھالی اور اس کی تصدیق و توثیق کے بغیر ہی شائع کردیا ‘ ۔۔

TOPPOPULARRECENT