Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / دہشت گرد گروپ میں شمولیت کا منصوبہ ، حیدرآباد کے تین نوجوان ناگپور ایرپورٹ پر پکڑے گئے

دہشت گرد گروپ میں شمولیت کا منصوبہ ، حیدرآباد کے تین نوجوان ناگپور ایرپورٹ پر پکڑے گئے

تینوں چچا زاد بھائی داعش پروپگنڈہ سے متاثر ، گزشتہ سال کونسلنگ ، خفیہ پولیس نگرانی سے ناگپور میں موجودگی کا سراغ
ناگپور ، 26 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تین رشتہ کے بھائیوں کو آج سرینگر روانگی سے قبل ناگپور انٹرنیشنل ایرپورٹ پر اٹھالیا گیا جو جہادی گروپوں میں شمولیت کا منصوبہ بنارہے تھے ۔ ان پر گزشتہ کئی ماہ سے خفیہ نظر رکھی جارہی تھی ۔ وہ آئی ایس آئی ایس (داعش) کے آن لائن پروپگنڈہ کے متاثر تھے ۔ ابتدائی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ ان تینوں کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ خوفناک دہشت گرد تنظیم میں شمولیت کا منصوبہ بنارہے تھے ۔ پولیس نے کہا ہے کہ ان تینوں کو مہاراشٹرا کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ اور تلنگانہ پولیس نے مشترکہ کارروائی کے دوران ناگپور انٹرنیشنل ایرپورٹ پر گرفتار کرلیا جب وہ گزشتہ روز یہاں پہونچنے کے بعد سرینگر روانگی کیلئے آج صبح طیارہ میں سوار ہورہے تھے ۔ 20 سال سے زائد عمر کے ان تینوں نوجوانوں کی پولیس نے گزشتہ سال کونسلنگ کی تھی ۔ وہ آپس میں رشتہ کے بھائی ہیں ۔ انہیں اُس وقت پکڑلیا گیا تھا جب وہ آئی ایس آئی ایس میں شمولیت کا منصوبہ بنارہے تھے ۔ بعد ازاں ان کی نقل و حرکت اور دیگر تمام سرگرمیوں پر خفیہ نظر رکھی جارہی تھی ۔ تلنگانہ پولیس کے ایک سینئر انٹلیجنس آفیسر نے نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ سے کہا کہ ’’وہ (تینوں نوجوان) جہادی ذہنیت کے حامل ہیں ۔ و ہ سرینگر روانہ ہورہے تھے لیکن تاحال ان کا آئی ایس آئی ایس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ہم ایسی کوئی بات نہیں جانتے جس کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ (نوجوان) آئی ایس آئی ایس کے رابطہ میں ہیں ‘‘ ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ تینوں سرینگر پہونچنا چاہتے تھے تاکہ وہاں کسی دہشت گرد گروپ میں شمولیت کا راستہ تلاش کیا جاسکے ۔ ان کے پاس کوئی منظم تیار کردہ منصوبہ نہیں ہے لیکن وہ کسی دہشت گرد تنظیم میں شمولیت کا راستہ پانا چاہتے تھے ‘‘ ۔ یہ تینوں نوجوان جو طلبہ ہیں پولیس نے گزشتہ سال ان کی کونسلنگ کی تھی اور اس کے بعدان پر خفیہ نظر رکھی جارہی تھی ۔ دو دون قبل وہ گھر سے لاپتہ ہوگئے تھے اور افراد خاندان نے پولیس کو مطلع کیا ۔ پولیس نے ناگپور میں ان کی موجودگی کا پتہ چلایا اور مہاراشٹرا اے ٹی ایس کو چوکس کردیا ، جس پر انہیں گرفتار کرلیا گیا ۔ حیدرآباد کے ایک سینئر عہدیدار نے داعش میں شمولیت سے متعلق ان کے منصوبوں کے بارے میں ایک سوال پر جواب دیا کہ ’’ہمیں دستیاب معلومات کے مطابق ان کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں تھا ۔ تاہم یہ پتہ چلانے کی ضرورت ہے کہ آیا ان کے ذہنوں میں اور ایسی کوئی بات ہوسکتی ہے ؟ ۔پولیس افسرنے کہا کہ گزشتہ سال یہ تینوں داعش آن لائن پروپگنڈہ سے متاثر ہوئے تھے ۔ جس کا پتہ چلاتے ہوئے پولیس نے ان کا سراغ لگایا اور پکڑنے کے بعد کونسلنگ بھی کی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان تینوں کو حیدرآباد لایا جارہا ہے اور ان کے منصوبوں کا پتہ چلانے کیلئے پوچھ گچھ کی جائے گی ۔ جس کا بعد میں ہمیں پتہ چلے گا کہ آیا وہ داعش میں شمولیت کا کوئی منصوبہ بنارہے تھے کہ اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ تینوں نوجوانوں کے خلاف کوئی پولیس کیس نہیں ہے ۔ یہ تینوں نوجوان ممنوعہ طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) کے سابق صدر سید صلاح الدین کے رشتہ دار ہیں، جن کا تلنگانہ میں گزشتہ سال اکٹوبر میں کار حاد ثہ میں انتقال ہوا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT