Thursday , July 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / دہلی آج بہتر آغاز اور بنگلور کامیابی کیلئے کوشاں

دہلی آج بہتر آغاز اور بنگلور کامیابی کیلئے کوشاں

بنگلور۔7 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) اسٹار کھلاڑی ویراٹ کوہلی کی غیرموجودگی کے ساتھ آئی پی ایل میں اتری رائل چیلنجرز بنگلور ٹورنمنٹ کا افتتاحی مقابلہ ہی گنوابیٹھی اور اب فتح حاصل کرنے کے لئے کافی پرجوش ہے ۔کل اس کا مقابلہ دہلی ڈیئرڈیولس سے ہوگا جو ٹوئنٹی لیگ میں بڑے الٹ پھیر کا دعوی کررہی ہے ۔انڈین پریمئر لیگ اپنے دسویں سال میں قدم رکھ چکی ہے لیکن اس کی کچھ ٹیمیں اب تک اپنے سفر کو یادگار نہیں بنا سکی ہیں جن میں دہلی بھی ایک ایسی ہی ٹیم ہے جو یہاں ایم چنا سوامی اسٹیڈیم میں ہفتہ کو میزبان ٹیم بنگلور کے خلاف مقابلے کے لئے اترے گی جسے سن رائزرس حیدرآباد سے پہلے ہی میچ میں 35 رنوں کی شکست برداشت کرنی پڑی ہے۔ بنگلور کے کپتان کوہلی زخمی ہونے کی وجہ ابتدائی میچوں سے باہر ہیں تو وہیں دیگر اسٹار کھلاڑی  اے بی ڈی ولیرس بھی زخمی ہیں اور افتتاحی میچ سے باہر رہنے کے بعد اب ان کا دہلی کے خلاف کھیلنا بھی غیر یقینی سمجھا جا رہا ہے ۔ ان کے علاوہ وکٹ کیپر لوکیش راہول بھی باہر ہیں اور ٹورنمنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹیم کی حالت کچھ نازک بنی ہوئی ہے ۔حالانکہ اس کے پاس کرس گیل، کارگذار کپتان شین واٹسن، کیدار جادھو، ٹریوس ہیڈ، مندیپ سنگھ اور سچن بے بی جیسے بہترین کھلاڑی موجود ہیں لیکن حیدرآباد کے خلاف میچ میں کی گئی غلطیوں کو اسے ہر حال میں سدھارنا ہوگا جس میں لوور آرڈر کے کھلاڑیوں کو اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ بولنگ میں بہتر کارکردگی بھی ضروری ہے ۔بنگلور ٹیم کا بیٹنگ شعبہ ہمیشہ ہی مضبوط رہا ہے لیکن زخمی کھلاڑیوں کی وجہ سے اب دیگربیٹسمینوں پراضافی ذمہ داری آن پڑی ہے جنہوں نے گزشتہ میچ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیںکیا تھا۔ آل راؤنڈر اسٹوورٹ بنی، سچن بے بی، ٹائمل ملس لوور آرڈر میں بیٹ سے کوئی تعاون نہیں دے سکے تو وہیں اوپنروں نے بھی کوئی بہتر شروعات نہیں کی۔

علاوہ ازیںبولروں میں ہمیشہ کمزور رہنے والی ٹیم بنگلور نے حریف حیدرآباد کو 200  سے زیادہ اسکور بنانے کا موقع دیا جس میں واٹسن تین اوور میں 41 رنز دے کر سب سے مہنگے بولر ثابت ہوئے اور کوئی وکٹ نہیں لے پائے ۔دوسری طرف انرودھ چودھری نے55  رنز دے کر ایک وکٹ لی۔فی الحال بنگلور کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے کھیل کے ہر شعبہ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اگرچہ بنگلور کی ٹیم ایک مرتبہ بھی آئی پی ایل کا خطاب نہیں جیت سکی ہے لیکن وہ گزشتہ سال رنر اپ رہی تھی جبکہ 2015  میں تیسرے نمبر پر تھی۔ علاوہ ازیں بنگلور2011  اور2009  میں بھی رنر اپ رہ چکی ہے ۔ وہ ٹورنمنٹ کی بہترین ٹیموں میں شمارکی جاتی ہے ۔38  سالہ ظہیر خان کی کپتانی والی دہلی ایک مرتبہ بھی فائنل میں جگہ نہیں بنا سکی۔اس نے صرف 2008  اور2009  میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا جب وہ سیمی فائنل تک پہنچی تھی۔دہلی کے پاس تجربہ کار کپتان ظہیر کے علاوہ کوچ راہول دراویڈ کا بھی ساتھ ہے ۔ وہیں اس کے اہم کھلاڑیوں میں جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولرکیگیسو ربادا ہیں جن پر ٹیم نے اس مرتبہ پانچ کروڑ خرچ کئے ہیں۔ساتھ ہی وکٹ کیپر رشبھ پنت سے بھی ٹیم کو کافی امیدیں وابستہ ہیں جو گزشتہ سال گھریلو کرکٹ میں ٹرپل سنچری کے بعد سرخیوں میں آئے تھے ۔علاوہ ازیں کوری اینڈرسن،  لیگ اسپنر امت مشرا، سنجو سامسن بھی اہم کھلاڑیوں میں شمار کئے جاتے ہیں جو اس وقت دہلی کوایک نئی راہ پر لے جا سکتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT