Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / دہلی اور آسام میں قتل عام کے وقت انسانی اقدار کیوں یاد نہیں آئے

دہلی اور آسام میں قتل عام کے وقت انسانی اقدار کیوں یاد نہیں آئے

ایوارڈس واپس کردینے پر قلمکاروں سے بی جے پی ترجمان ایم جے اکبر کا سوال
کولکتہ ۔ 28 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے قومی ترجمان مسٹر ایم جے اکبر نے آج یہ دعویٰ کیا ہیکہ وزیراعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امیت شاہ ، بہار کے بہتر مستقبل کیلئے مشترکہ جدوجہد کر رہے ہیں اور بتایا کہ نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کا اتحاد ، جھوٹے وعدوں کا پلندہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ بہار کے انتخابات میں بی جے پی امکانات کا اندازہ صرف ٹیلی ویژن چیانلوں پر نہیں بلکہ نریندر مودی کے جلسوںمیں عوام کے جم غفیر سے لگایا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ 6 تا 8 گھنٹوں طویل سفر کر کے کسی اور کو ووٹ ڈالنے کیلئے نہیں آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور صدر بی جے پی امیت شاہ بہار کے روشن مستقبل اور خوشحالی کیلئے آئندہ 25 سالہ منصوبہ بندی کی خاطر جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ عوام کو نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کے جھوٹے وعدوں کے جھانسہ سے بچایا جاسکے۔ مسٹر ایم جے اکبر نے بتایا کہ نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں بالخصوص ، جن دھن یوجنا اور پردھان منتری مدرا یوجنا سے بہاری عوام کو زبردست فائدہ حاصل ہورہا ہے اور ریاست کی مجموعی ترقی کیلئے کارآمد ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ لالو اور نتیش کا اتحاد بہت جلد قصہ پارینہ بن جائے گا کیونکہ یہ جھوٹے وعدوں اور تسلیوں پر قائم کیا گیا ہے ۔

عدم رواداری کے خلاف قلمکاروں کے ایوارڈس کی واپسی پر ایک سوال کے جواب میں بی جے پی راجیہ سبھا ممبر نے کہا کہ یہ قدم بہار انتخابات سے عین قبل اٹھایا گیا ہے جوکہ سیاسی محرکات پر مبنی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میں ان قلمکاروں کے نام ظاہر کرنا نہیں چاہتا لیکن ان میں بعض تو ایسے ہیں جنہیں 1984 ء کے مخالف سکھ فسادات کے بعد ایوارڈس عطا کئے گئے اور بعض مصنفین نے آسام میں اقلیتوںکی نسل کشی کے بعد حاصل کئے ہیں۔ اس وقت انہیں انسانی اقدار اخلاقی اصول کیوں یاد نہیں آتے؟ ملک کے مختلف مقامات پر اقلیتوں کے خلاف حملے اور دنگا فساد کے واقعات میں بی جے پی کے ملوث ہونے کے الزامات پر تبصرہ کی خواہش پر ایم جے اکبر نے کہا کہ امن و قانون کے اختیارات ریاستی حکومتوں کے پاس ہوتے ہیں اور تمام ناخوشگوار واقعات کانگریس کے زیر اقتدار کرناٹک اور سماج وادی پا رٹی کی زیر قیادت اترپردیش میں پیش آئے ہیں اور ان ریاستوں میں امن و قانون کی بگڑتی صورتحال کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کیا گیا ۔ بی جے پی ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایک زائد مرتبہ کہا ہے کہ ہندوؤں کو فیصہ کرلینا چاہئے کہ وہ غربت یا مسلمانوں کے خلاف لڑیں گے اور مسلمان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ غربت یا ہندوؤں کے خلاف لڑتے رہیں گے جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وزیراعظم ، سب کا ساتھ ، سب کا وکاس کے حق میں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT