Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / دہلی اور لکھنؤ میں بی ایس پی کارکنوں کے مظاہرے

دہلی اور لکھنؤ میں بی ایس پی کارکنوں کے مظاہرے

مایاوتی کے خلاف ریمارکس پر احتجاج : بی جے پی سے معطل لیڈر کی گرفتاری کیلئے پولیس کوشاں
لکھنو 21 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بہوجن سماج پارٹی کے ہزارہا کارکنان آج پارٹی سربراہ مایاوتی کے خلاف نازیبا ریمارک کرنے والے دیا شنکر سنگھ کی فی الفور گرفتاری کے مطالبہ پر شہر لکھنو کی سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ پولیس نے بی جے پی سے معطل لیڈر کا پتہ چلانے کے لئے لکھنؤ اور بلیا میں دھاوے کئے اور ان کے بھائی کو حراست میں لے لیا گیا۔ حضرت گنج چوراہا پر احتجاجیوں نے مخاطب کرتے ہوئے قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر نسیم الدین صدیقی نے کہاکہ روپوش دیانند سنگھ کی گرفتاری کے لئے سرکاری حکام کو 36 گھنٹے کی مہلت دی جاتی ہے۔ قبل ازیں پارٹی کارکنوں کا احتجاج صبح 8 بجے شروع ہوکر تقریباً 5 گھنٹوں تک جاری رہا اور صدیقی نے ضلع مجسٹریٹ کو یہ الٹی میٹم دیا کہ سنگھ کو فی الفور پکڑ لیا جائے جس کے بعد احتجاج ختم کردیا جائے گا۔ بصورت دیگر سنگین عواقب و نتائج کی حکومت ذمہ دار ہوگی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ منوج جھا نے بتایا کہ دیانند شنکر سنگھ کو گرفتار کرنے کے لئے لکھنؤ اور بلیا میں دھاوے کئے گئے لیکن وہ ہاتھ نہیں لگے۔

البتہ سنگھ کے بھائی دھرمیندرا کو ان کے مکان سے حراست میں لے لیا گیا۔ بی ایس پی نے کارکنوں سے اپیل کی تھی کہ دیاشنکر سنگھ کے خلاف احتجاجی دھرنا منظم کریں جس پر مختلف اضلاع سے آئے ہوئے ہزارہا کارکنان حضرت گنج چوراہاپر واقع مجسمہ امبیڈکر کے قریب اکٹھا ہوگئے۔ اس دھرنا میں کئی گھنٹوں تک ٹریفک درہم برہم ہوگئی۔ جبکہ بی جے پی کا پتلا نذر آتش کرتے وقت ایک پارٹی کارکن معمولی طور پر جھلس گیا۔ واضح رہے کہ دیانند شنکر نے بی ایس کی سربراہ کے خلاف بعض نازیبا ریمارکس کے ذریعہ غم و غصہ پیدا کردیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ مایاوتی نے کانشی رام کے خوابوں کو چکنا چور کردیا اور پارٹی کے ٹکٹوں کو ایک فاحشہ کی طرح فروخت کررہی ہیں۔ دریں اثناء بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے آج کہاکہ نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے شخص کے خلاف بی جے پی قائدین کو خود ایف آئی آر درج کرانی چاہئے تھی۔انھوں نے یہاں نامہ نگاروں سے کہاکہ نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے دیا شنکر سنگھ کو پارٹی سے معطل کرنا معمول کی بات ہے۔

TOPPOPULARRECENT