Friday , April 28 2017
Home / ہندوستان / دہلی بم دھماکہکا بے قصور قیدی 12 سال بعد آزاد

دہلی بم دھماکہکا بے قصور قیدی 12 سال بعد آزاد

اپنے خوش قسمت ہونے کے احساس کا اظہار، سری نگر کے محمد رفیق شاہ کا بیان
نئی دہلی 17 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی بم دھماکوں کے لئے جن میں دیوالی سے عین قبل 67 افراد ہلاک ہوگئے تھے، 12 سال قید میں گزارنے کے بعد 34 سالہ سرینگر کے محمد رفیق شاہ کو کل ایک عدالت نے بے قصور قرار دیا۔ رفیق شاہ نے کہاکہ اُنھوں نے جج سے صرف 3 الفاظ کہے لیکن انصاف غالب آیا۔ وہ این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ وہ اُن تین افراد میں شامل ہیں جنھیں شہادتوں کی کمی کی بناء پر بری کردیا گیا۔ تیسرا ملزم طارق احمد ڈار مجرم قرار پایا۔ اِس لئے کہ وہ بمباری میں ملوث تھا بلکہ اِس لئے کہ اُس کا تعلق ممنوعہ گروپ سے تھا۔ تمام تینوں افراد کو مملکت کے خلاف جنگ چھیڑنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور الزام عائد کیا گیا تھا کہ اُنھوں نے سازش کی تھی، ہتھیار حاصل کئے تھے، قتل کی وارداتوں کا ارتکاب کیا تھا اور 2008 ء میں قتل کی کوشش کی تھی لیکن استغاثہ کا مقدمہ ناکام ہوگیا۔ 147 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے استغاثہ کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی اور استغاثہ کے مقدمہ کو کمزور قرار دیا۔ استغاثہ کے 325 گواہ تھے۔ رفیق شاہ نے کہاکہ وہ ابتداء ہی سے جانتے تھے کہ مقدمہ کافی دن چلے گا لیکن اُنھیں یقین تھا کہ وہ بری کردیئے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ قرآن مجید کی تلاوت، بیڈمنٹن کھیلنے اور مطالعہ کے ذریعہ اُن میں مثبت انداز فکر پیدا ہوا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ حقیقی خاطی گرفتار ہوجائیں۔ بم دھماکے مقدمہ کے حقیقی خاطیوں کے ساتھ اسی طرح انصاف کیا جائے جیسا کہ میرا ساتھ ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ کشمیر یونیورسٹی میں اسلامی مطالعہ جات کی ماسٹرس ڈگری کی تعلیم حاصل کررہے تھے جبکہ اُنھیں گرفتار کیا گیا۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ کلاس میں اُن کی حاضری کا ریکارڈ ظاہر کرتا تھا کہ جب دھماکے ہوئے وہ کلاس میں موجود تھے۔ لیکن پولیس نے کچھ بھی نہیں سنا اور اُسے اُس کی قیامگاہ سے گرفتار کرلیا۔ وہ دہلی بھی جاچکے ہیں جبکہ وہ ایک بچے تھے لیکن جیل جانے سے پہلے وہ اپنے ساتھی قیدی سے واقف نہیں تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ پولیس سے صرف ایک بات کہنا چاہتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے انسان ہیں اور بعد میں ملازم پولیس۔ اِس لئے اُنھیں انسانیت کا برتاؤ کرنا چاہئے۔ رفیق شاہ نے ماسٹرس کی ڈگری جیل میں رہتے ہوئے حاصل کی۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور لڑکوں کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں جنھیں دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ فی الحال وہ چاہتے ہیں کہ والدین کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں۔ اُنھیں میرے لئے عدالتوں کی چکریں کاٹنا پڑا جبکہ اُنھیں والدین کی خدمت کرنا چاہئے تھا۔ سری نگر میں وہ حصول تعلیم کا احیاء کرنا چاہتے ہیں۔ تہاڑ جیل میں اب بھی کئی لڑکے موجود ہیں اِس لئے وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ اُنھیں اپنی ماں کے ہاتھوں کا پکا ہوا پنیر کا سالن دوبارہ کھانے کا موقع ملا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT