Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / دہلی دھماکوں کے مقدمہ میں ‘ایک ملزم طارق ڈار کو 10 سال کی قید ، دو ساتھی بری

دہلی دھماکوں کے مقدمہ میں ‘ایک ملزم طارق ڈار کو 10 سال کی قید ، دو ساتھی بری

نئی دہلی۔ 19 فروری (سیاست ڈاٹ کام) 2005ء کے دہلی سلسلہ وار بم دھماکوں کے ایک ملزم طارق ڈار کو لشکر طیبہ کارکن ہونے کی بنیاد پر 10 سال کی سزائے قید دی ہے تاہم ان بم دھماکوں کے لئے سازش میں ملوث ہونے کے الزام سے بری کردیا۔ طارق ڈار اپنے ساتھی ان دیگر دو ملزمین کی طرح خوش نصیب ثابت نہ ہوسکے جنہیں قبل ازیں منسوب الزامات سے بری کیا جاچکا ہے۔ ایڈیشنل سیشنس جج رتیش سنگھ نے ڈار کو دھماکے کرتے ہوئے حکومت کے خلاف جنگ چھیڑ دینے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام سے بری کردیا، تاہم غیرقانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق قانون دفعہ 38 (دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونا) اور دفعہ 39 (اس قسم کی کسی تنظیم کی مدد کرنا) کے تحت 10 سال کی سزائے قید دی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’دھماکوں کے پس پردہ سازش میں ڈار کے ملوث ہونے سے متعلق کسی ثبوت کی عدم دستیابی کے سبب اس کے خلاف عائد کردہ کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوسکا‘‘۔ تاہم عدالت نے کہا کہ ’’ڈار کے خلاف دفعہ 38 اور 39 کے تحت کسی جرم میں ملوث ہونے کا الزام نہیں لگایا گیا تھا لیکن ان دفعات سے مربوط جرائم میں ملوث پائے جانے پر اس کو سزا دی گئی ہے۔ مزید برآں اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ ڈار پہلے ہی تقریباً 11 سال سے جیل میں ہے چنانچہ عدالت نے یہ واضح کردیا کہ اس کو جرم کا مرتکب پائے جانے کے باوجود مزید قید کا سامنا کرنا نہیں ہوگا۔ انفورسمنٹ ڈائر یکٹوریٹ نے بھی ڈار کے خلاف رقمی ہیر پھیر کا ایک مقدمہ دائر کی ہے جس پر فیصلہ کا پیر کو اعلان متوقع ہے۔ ڈار کے دو ساتھیوں محمد رفیق شاہ اور محمد حسین فاضلی کو پہلے ہی منسوبہ الزامات سے بری کرتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ دہلی پولیس ان دونوں کے خلاف ثبوت پیش کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔(مقدمہ میں بری حسین فاضلی کا استفسار:خبر صفحہ 3 پر)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT