Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / دہلی سلم بستی میں ریلویز کی انہدامی کارروائی

دہلی سلم بستی میں ریلویز کی انہدامی کارروائی

شیر خوار کی موت ،کجریوال کا مرکز سے شدید احتجاج
نئی دہلی ۔ /13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ریلویز کی جانب سے سلم بستی کو منہدم کرنے پر حکومت دہلی اور مرکز کے مابین نئی محاذ آرائی شروع ہوگئی ہے ۔ ریلویز کی انہدامی کارروائی میں ایک شیرخوار کی موت واقع ہوگئی جس پر چیف منسٹر اروند کجریوال نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ عہدیداروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا انتباہ دیا ہے ۔ حکومت دہلی نے مغربی دہلی میں واقع شکور بستی کے 1200 جھونپڑیوں کو منہدم کرنے کی مجسٹریل تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے ۔ وہ عدالت سے رجوع ہونے کا منصوبہ رکھتی ہے اور ان تمام کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے گا جنہوں نے انہدامی کارروائی کا حکم دیا ہے ۔ ریلویز کا یہ موقف ہے کہ انفراسٹرکچر کی توسیع کیلئے ان قبضوں کو برخواست کرنا ضروری تھا ۔ ریلویز نے تین مرتبہ نوٹس جاری کرنے کے بعد یہ کارروائی کی ۔ اس انہدامی کارروائی میں ایک چھ ماہ کی شیر خوار لڑکی جو جھونپڑی میں تھی ہلاک ہوگئی ۔ جبکہ ریلویز کا یہ موقف ہے کہ اس واقعہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور انہدامی کارروائی شروع ہونے سے دو گھنٹے پہلے ہی شیرخوار کی موت واقع ہوئی تھی ۔ دوسری طرف شکور بستی کے مقامی افراد نے ریلویز کی اس کارروائی پر شدید احتجاج کیا ہے ۔ شیرخوار کے والد نے کہا کہ ریلوے حکام تھوڑی سی مہلت دیتے تو یہ افسوسناک واقعہ پیش نہ آتا ۔ محمد انور جو اس شیرخوار رقیہ کے والد ہیں اپنی اہلیہ کے ساتھ انتہائی غمزدہ تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکام نے پہونچ کر دروازہ کھٹکھٹایا اور ہم نے گھبراہٹ کے عالم میںاپنا سامان اٹھانا شروع کیا تھا کہ اسی دوران کپڑوں کا ڈھیر میری پیاری بیٹی رقیہ پر گرپڑا اور یہ اس کی موت کا سبب بن گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ عہدیدار ہمیں تھوڑا سا وقت دیتے تو شائد یہ واقعہ پیش نہ آتا ۔ )

انہدامی کارروائی پر کجریوال برہم ، آج وزیر ریلوے سے ملاقات

متاثرین کو رہائش اور غذا کی فراہمی میں ناکامی پر تین عہدیدار معطل ، ریلوے عہدیدار کوئی طمانیت دینے میں ناکام

نئی دہلی۔13ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی میں محکمہ ریلوے نے انہدامی کارروائی کرتے ہوئے 1200 سلم جھونپڑیوں کو منہدم کردیا ۔ چیف منسٹر اروند کجریوال نے شکور بستی میں کی گئی اس انہدامی کارروائی اور شیر خوار کی موت کا مسئلہ کل وزیر ریلوے سریش پربھو سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ آج ریلوے عہدیداروں نے چیف منسٹر سے ملاقات کی لیکن وہ ان کے جواب سے مطمئین نہیں تھے ۔ ریلوے عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ انہدام سے پہلے کوئی بازآبادکاری اسکیم نہیں ہے ۔ چیف منسٹر ریلویز کے ان دعوؤں کو بالکل مسترد کردیا ۔ انہوں نے جھونپڑوں سے نکالے گئے متاثرین سے ملاقات کی اور کہا کہ جو لوگ 1992-94 سے یہاں رہ رہے تھے انہیں اچانک بے گھر کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ جھونپڑیاں منہدم کی ہیں وہ انسان نہیں بلکہ جانور اور اس سے بھی بدتر ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ ریلوے عہدیدار منسٹر دہلی کو اطمینان بخش جواب دینے میں ناکام رہے ۔ کجریوال نے جب پوچھا کہ انہدامی کارروائی سے قبل بازآبادکاری کیلئے کیا اقدامات کئے گئے تو عہدیداروں نے کہا کہ وہ اس بارے میں ریلوے بورڈ اور وزارت مطلع کریں گے ۔

اروند کجریوال نے دو سب ڈیویژنل مجسٹریٹ اور ایک سپرنٹنڈنٹ انجنیئر کو معطل کردیا جو متاثرین عوام کیلئے غذا اور رہنے کا انتظام کرنے میں ناکام رہے ۔ تنازہ اس وقت کھڑا ہوا جب دہلی ڈیویژنل ریلوے منیجر ارون ارورہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان قبضوں کو برخواست کرنا ضروری تھا کیونکہ ٹرینوں کی آمد و رفت کیلئے یہ جوکھم تھے ۔ یہ جھونپڑیاں سیفٹی زون کے اندرون 15 میٹر واقع تھی ۔ دہلی کمیشن فار ویمن کی سربراہ سواتی ملیوال نے انہدامی کارروائی کے مقام کا دورہ کیا ۔ مقامی عوام انہیں ایک جھونپڑی میں لے گئے جہاں 7 سالہ طالبہ مسکان اپنے سر پر پٹی باندھے لیٹی ہوئی تھیں ۔ دوسری طرف لوگ اس کے والدین کو سامان نکالنے میں مدد کررہے تھے ۔ یہ انہدامی کارروائی کل انجام دی گئی ۔

 

TOPPOPULARRECENT