Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / دہلی میں اسکولس ایک ہفتے کیلئے بند

دہلی میں اسکولس ایک ہفتے کیلئے بند

بدترین آلودگی سے بچے اور معمر افراد بری طرح متاثر، دمہ ، الرجی اور سانس میں دشواری کی شکایات

نئی دہلی۔7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) قومی دارالحکومت دہلی میں آلودگی کی انتہائی ابتر صورتحال کے پیش نظر سائوتھ کارپوریشن کے تحت تقریباً 580 اسکولس مکمل ایک ہفتہ بند رہیں گے جبکہ شمالی اور مشرقی بلدی اداروں کے تحت اسکولس کو چہارشنبہ تک بند رکھا گیا ہے۔ دہلی کے تین میونسپل کارپوریشن کے تحت چلائے جارہے 17 ہزار سے زائد اسکولس شدید ترین کہر کی وجہ سے ہفتہ کو بھی بند رہے گا۔ آلودگی کے باعث دمہ، الرجی اور سانس لینے میں دشواری جیسی شکایات عام ہوگئی ہیں۔ ڈاکٹرس نے بالخصوص بچوں اور معمر افراد کی خصوصی نگہداشت پر زور دیا ہے۔ ایم سی ڈی کے تحت تمام پرائمری اسکولس ہیں اور یہ صبح و شام کی شفٹ میں چلائے جاتے ہیں۔ تین کارپوریشنس کے تحت ان اسکولس میں تقریباً 10 لاکھ طلباء کے نام درج ہیں۔ حکومت دہلی نے کل ہی یہ اعلان کیا تھا کہ تمام اسکولس 9 نومبر تک بند رہیں گے۔ ایس ڈی ایم سی کے ترجمان نے بتایا کہ شہر میں آلودگی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم نے 12 نومبر تک اس میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ چوں کہ یہ پرائمری اسکولس ہیں اور صبح کے وقت کہر بہت زیادہ ہے اسی لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ جنوبی دہلی میں سری فورٹ اور مشرقی دہلی میں آنند وہار وہ علاقے ہیں جہاں آلودگی کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ ناتھ دہلی کے میئر سنجیو نیر نے بتایا کہ ہم نے تمام اسکولس کو 9 نومبر تک بند رکھنے کا حکم دیا تھا۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اس بارے میں مزید کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ ایس جی ایم سی نے ریڈیو پر بھی مہم شروع کی ہے تاکہ عوام کو آلودگی سے متعلق مسائل سے واقف کرایا جاسکے۔ دہلی میں اس وقت 17 سال میں اب تک کی بدترین آلودگی دیکھی جارہی ہے۔ حکومت دہلی اور مرکز نے صورتحال پر قابو پانے کے لئے فوری اقدامات شروع کئے ہیں۔ چیف منسٹر اروند کجریوال نے کل کئی ہنگامی نوعیت کے اقدامات کا اعلان کیا تھا جن میں تعمیراتی اور انہدامی سرگرمیوں پر امتناع کے علاوہ جنوبی دہلی میں بدرا پور پاور پلانٹ کو عارضی طور پر بند کرنا شامل ہیں۔ سنجیو نیر نے کہا کہ ڈیزل جنریٹرس کا استعمال روک دیا جانا چاہئے۔ تعمیراتی سرگرمیوں پر فوری پابندی لگانے اور پتے جلانے پر بھی فی الفور امتناع ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں بچوں کی صحت کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ دہلی میں آلودگی کی اس ابتر صورتحال سے نمٹنے کے لئے مصنوعی بارش کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT