Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / دہلی میں اہل اسلام کا اجتماع

دہلی میں اہل اسلام کا اجتماع

دہشت گردی عصر حاضر کا سب سے سلگھتا ہوا موضوع ہے ، ہرملک میں منعقدہ انتخابات کا اہم موضوع دہشت گردی ہوتا ہے ، شومئہ قسمت کہ اہل اسلام میں چند ایسے جاہل یا خودغرض ظاہر ہوئے ہیں جو مذہب کے نام پر یا اپنے دیرینہ اغراض و مقاصد کے لئے قتل و خون کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی المناک صورتحال نے دشمنانِ دین کے کئی دہوں پر مشتمل باطل منصوبوں کو کامیابی کی دہلیز تک پہنچادیا ہے ، ساری دنیا آج اسلام اور مسلمان کے نام سے خائف نظر آرہی ہے ۔ امریکہ میں جس چرچ یا پروگرام میں جاتا ہوں تو امریکن مجھ سے سوالات کرنے میں پس و پیش کا شکار رہتے ہیں ، جب سوالات و جوابات کا سیشن خوشگوار ماحول میں پروان چڑھتا ہے تو پھر جہاد ، دہشت گردی ، داعش اور القاعدہ کے بارے میں پے در پے سوالات شروع ہوجاتے ہیں ۔ چونکہ مشرق وسطی کی حالت تکلیف دہ ہے اور داعش جس بے رحمی سے مسلمانوں کا قتل کررہے ہیں ، اسلام تو بہت اعلیٰ چیز ہے وہ انسانیت کے سارے حدود تجاوز کررہے ہیں ۔ ملک شام میں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان مررہے ہیں ، یمن میں وہی حال ہے ، پاکستان ، افغانستان اور عراق کی وہی صورتحال ہے ۔ ایسے ماحول میں ان غیرمسلمین کے روبرو کس طرح کہا جائے کہ اسلام دہشت گردی کی قطعاً اجازت نہیں دیتا جبکہ مسلمان خود اس ظلم و زیادتی کا واضح ثبوت بنے ہوئے ہیں ۔ جب یہ امریکن مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ داعش کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو میں ان کو جواب دیتا ہوں کہ اسلام چودہ سو سال سے کرۂ ارض پر ہے اور صدیوں سے دنیا کے چپہ چپہ میں مسلمان آباد ہیں ، داعش کا نام میں نے ۲۰۱۲؁ ء میں سنا ہی نہیں تھا تو یہ جماعت چودہ صدیوں پر محیط اسلام اور اہل اسلام کی کس طرح نمائندگی کرسکتی ہے ۔

درانحالیکہ ان کی سفاکی اور بربریت کا کوئی دوسرے نہیں ،صرف مسلمان شکار ہورہے ہیں ۔ وہ مجھ سے اُسامہ بن لادن کے بارے میں پوچھتے ہیں تو میں ان سے سوال کرتا ہوں کہ کیا اسامہ بن لادن دین اسلام کا مفسر ہے ؟ فقیہ ہے ؟ محدث ہے ؟ امام ہے ؟ یا مفتی ہے یا کسی مذہبی جماعت کا بانی ہے ؟ کیا اس نے ہمارے نبی ؐ یا صحابہؓ کو دیکھا ہے ؟ کیا کوئی مذہبی کتاب تصنیف کی ہے ؟ کیا اس کی کوئی مذہبی منفرد تعلیمات ہیں ؟ وہ روس کے خلاف لڑائی کیا ، امریکہ و مغربی ممالک کی تائید حاصل تھی ، بعد ازاں حقائق کھلے تو وہ اُن کا مخالف ہوگیا اور ان کے خلاف ایک محاذ قائم کیا اور ایک چھوٹی سی جماعت بنائی ۔ کرۂ ارض پر 1.7 بلین مسلمان آباد ہیں کل دہشت گرد جماعتوں کو جمع کرلیا جائے تو وہ دنیا میں پھیلی مسلم آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ہوسکتے ۔
دنیا کے مختلف ممالک سے دہلی میں ورلڈ صوفی فورم کی دعوت پر سینکڑوں علماء ، مشائخ ، محققین ، اسکالرس جمع ہورہے ہیں اور وہ عصر حاضر میں تصوف کے فروغ کی ضرورت اور دہشت گردی جیسے موضوعات پر اظہارخیال کریں گے ۔ علاوہ ازیں موجودہ دور میں مسلم قوم کو درپیش چیالنجس پر غور و خوض کیا جائے گا ۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اسلام ابتداء ہی سے ایک جنونی طبقہ کی جہالت اور شدت پسندی کا شکار رہا ۔ یہ وہ فتنہ ہے جو قرونِ اولیٰ میں ’خوارج‘ کی شکل میں ظاہر ہوا ۔ اس فرقہ کی فتنہ انگیزی اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ اسلام کے دو عظیم خلفاء حضرت سیدنا عثمان غنیؒ اور حضرت سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ اسلام کے دارالخلافہ میں ان باغیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ۔ یہ درندہ ذہنیت قیامت تک رہنے والی ہے لیکن اس باغی جماعت کو کسی دور میں اس قدر غلبہ نہیں ہوا کہ وہ دین اسلام کی نمائندگی کرسکے ۔ بلکہ وہ ہر دور میں مغلوب و مقصور رہی ۔ مسلمان کثرت سے دنیا کے طول و عرض میں پھیل چکے تھے اور وہ خود اسلام کے حقیقی نمائندہ تھے ۔ اسلام نے اپنی طویل تاریخ میں بے شمار فتنے دیکھے ہیں جو وقتیہ طورپر اثرانداز ہوئے لیکن اسلام کا سورج اس طرح چمکا کہ باطل کی ساری تاریکیاں کافور ہوگئیں۔
۱۹۹۰؁ء میں کویت پر عراق کا حملہ مشرق وسطیٰ بلکہ سارے عالم اسلام کیلئے تباہ کن ثابت ہوا ۔ سارے عرب ممالک خوفزدہ ہوئے اور اپنے تحفظ کے لئے تاک میں بیٹھے دشمن کا سہارا لینے پر مجبور ہوگئے ۔ ۱۱؍۹ کا واقعہ دنیا کی تاریخ میں خط فاصل بن گیا ، جس کے ذریعہ مغربی عوام کا ذہن اسلام کے خلاف آسانی سے پھیردیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف نفرتیں بڑھ گئیں بالآخر جس صدام حسین نے فتنہ کا دروازہ کھولا تھا اسی کو تختہ دار پر چڑھادیا گیا ، اس کی حکومت کا زوال ہوا لیکن کوئی کیمیکل ہتھیار دستیاب نہیں ہوئے ۔ عراق میں انارکی و انتشار کے ماحول میں وہ حکومت قائم ہوئی جس کو حکمرانی کا سلیقہ نہ تھا اور نہ ہی جنگ کا تجربہ تھا ۔ جن جدید ترین ہتھیار سے عراق کو تباہ کیا گیا تھا وہ ہتھیار عراق میں ہی چھوڑکر مغربی فورسس اپنے وطن واپس ہوگئیں کیونکہ ان کو واپس لانے پر خرچہ کافی تھا ۔ نئی حکومت ان ہتھیاروں کو استعمال کرنا نہیں جانتی تھی ۔

صدام حسین کی وہ تربیت یافتہ فوج جس کو ایران اور کویت سے جنگ کا زبردست تجربہ تھا وہ ان ہتھیاروں تک رسائی حاصل کرلیتی ہے  اس طرح ایک دہشت گرد تنظیم موسومہ ’’داعش ‘‘ کا وجود عمل میں آتا ہے ۔ صدام حسین کی حکومت کا زوال پھر داعش کا ظہور یہ اتفاقی حادثات ہیں یا دشمن کی کامیاب منصوبہ بندی کے نتائج ہیں ۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے لئے کیا ہم خوارج یا وھابیت کو مورد الزام قرار دیکر حقیقی دشمن کو بری قرار دیں گے یا حقیقی دہشت گرد کے چھپے چہرے کو آشکار کریں گے ؟
واضح باد کہ خوارج اسلام میں کوئی نیا فتنہ نہیں ہے ۔ قدیم سے ہے اور علماء حق اور فقہاء اُمت نے ان سے متعلق واضح تصریحات ثبت کردی ہیں ، اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہردور میں خوارج نت نئے طریقے سے ظاہر ہوئے ہیں ۔ کس طرح ان کو متعین کیا جائے گا ؟
واضح رہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کا ارشاد گرامی ہے : میری اُمت سے ایک جماعت ہمیشہ غالب رہے گی یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کا فیصلہ آئے گا اور وہ غالب رہیں گے ۔ ( بخاری و مسلم )
مسلم شریف کی روایت میں ہے : میری اُمت میں سے ایک جماعت اﷲ تعالیٰ کے حکم پر ہمیشہ قائم رہیگی جو ان کو رسوا کریگا یا مخالفت کریگا ان کو نقصان نہیں پہنچائیگا یہاں تک کہ اﷲ کا فیصلہ آئے گا اور وہ غالب رہیں گے ۔  نیز مسلم شریف میں حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے : یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا جس پر مسلمانوں کی ایک جماعت لڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہوگی ۔ ( یہ ساری روایات درجہ صحت کی ہیں) ۔

دشمن نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا اور افغانستان کو تباہ کیا لیکن اسلام کو نقصان نہیں ہوا۔ پھر عراق ، لیبیا ، شام ، مصر اور یمن تباہ ہوئے لیکن اسلام کو نقصان نہیں پہنچا ، اسلام کو اس وقت ظاہری طورپر نقصان پہنچ سکتا جب بیت المقدس ہاتھ سے جائیگا ، بیت المقدس کی حفاظت کے لئے جو مقامی افراد جدوجہد کررہے ہیں وہ بلاشبہ قابل مبارکباد ہیں ۔ کہیں ان کی مدد سے روکنے کے لئے یہودی اور عیسائی مشترکہ طورپر مشرق وسطیٰ کو اُلجھائے ہوئے تو نہیں کیونکہ بیت المقدس میں اہل اسلام کی فتح سے یہودیت اور عیسائیت کی ذلت آمیز شکست ہوگی ۔
ہندوستان میں مسلمانوں کو تعلیم ، روزگار و دیگر سہولتوں سے منصوبہ بند طریقہ پر محروم رکھا گیا ان کو معاشی و تعلیمی اور سیاسی طورپر عمداً پستی کی طرف لایا گیا لیکن اسلام اور مسلمانوں کو اس قدر نقصان نہیں ہوا جتنا کہ بابری مسجد کی شہادت سے ہوا ۔  منصوبہ بند فسادات سے اسلام نہیں دبا ، مسلمانوں کے قتل عام سے اسلام کو نقصان نہیں ہوا ، مسلمان گھرانوں کو زندہ جلایا گیا لیکن اسلام پر اثر نہیں ہوا لیکن بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر ہوجاتی ہے تو پھر اسلام بہت کمزور ہوجائیگا ، زعفرانی تنظیمیں عرصہ سے دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں ، ان تنظیموں کے خلاف ہمارا  کیا ردعمل ہوگا ؟
بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کو روکنے کے لئے ہمارے پاس کیا ماسٹر پلان ہوگا ۔ کیونکہ زعفرانی جماعتوں نے کبھی بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کو قبول کرنے کی بات ہی نہیں کی ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ دہلی میں منعقدہ تصوف کے فروغ میں اور دہشت گردی کے خلاف منعقدہ کانفرنس کے دوران ہندوستان میں مسلمانوں کے ملی مسائل کو اُٹھایا جائے گا ۔ مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قوم و ملت کے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اگر قومی میڈیا پر مسلمانوں کے مسلکی اختلافات کا ذکر چھڑ جائے تو ہم سب کی بلاشبہ بڑی رسوائی ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT