Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / دہلی میں بھینسوں کو منتقل کرنے والے 6 افرادپر حملہ

دہلی میں بھینسوں کو منتقل کرنے والے 6 افرادپر حملہ

زخمیوں میں 40 سالہ علی جان ، دو فرزندان کے علاوہ بھائی سلیم بھی شامل
نئی دہلی ۔ 8 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بیرونی دہلی کے بابا ہری داس نگر میں نامعلوم افراد کی جانب سے کئے گئے حملہ میں 6 افراد زخمی ہوئے۔ ٹرک کے ذریعہ بھینسوں کو منتقل کرنے والے ان 6 مسلمانوں کو زدوکوب کیا گیا۔ زخمیوں میں 40 سالہ علی جان، ان کے دو فرزندان 26 سالہ شوقین، 22 سالہ دلشان کے علاوہ ان کے بھائی سلیم اور دو دیگر 15 سالہ سیف علی اور 32 سالہ کالا شامل ہیں۔ یہ تمام اترپردیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (آوٹر) ایم این تیواری کے مطابق ان موٹرگاڑیوں کی ایک گاڑی کو شوقین چلا رہا تھا۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ ان لوگوں نے ہریانہ کے ماہم سے 17 بھینسوں کو اپنے ٹرک میں لوڈ کرلیا تھا اور یہ لوگ بھینسوں کو غازی پور منتقل کررہے تھے۔ ان کے بھائی اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ بھینسوں کی مارکٹ میں انہیں منتقل کیا جارہا تھا لیکن رات 8 بجے کے قریب جب وہ بابا ہری داس نگر کے گیتانجلی انکلیو پہنچے تو 3 تا 4 افراد نے ان کی گاڑی کو رکوا دیا اور ان سے بحث کرنا شروع کردیا۔ تھوڑی دیر میں دوسرے افراد بھی وہاں پہنچ گئے اور ان کے ٹرک کے پیچھے حصہ کو کھول دیا گیا۔ اس کے بعد بھینسیں ٹرک سے کود کر دوڑنے لگ گئی۔ زائد از 85 بھینسوں کو ان ٹرکوں میں بھر کر لے جایا جارہا تھا۔ ان ٹرکوں میں سے ایک ٹرک ڈرائیور محمد رئیس نے اس واقعہ کے بارے میں بتایا کہ یہ واقعہ نہایت ہی ہولناک اور خوفزدہ کرنے والا تھا۔ ہم نے اپنے ٹرکوں میں کوئی گائے نہیں لائی، لیکن اس کے باوجود بھی ہم پر حملہ کیا گیا۔

بھینسوں کی منتقلی ہمارا کاروبار ہے۔ برسوں سے ہم یہ کام انجام دے رہے ہیں لیکن ایسی صورتحال ہمیں اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آئی۔ حملہ کے وقت ہم نے محسوس کیا کہ اب ہم ہلاک کردیئے جائیں گے۔ یہ لوگ ہم پر گالی گلوچ کررہے تھے اور ہماری کچھ سننے تیار نہیں تھے۔ ہم لوگ حملہ آوروں کو یہ بتانے کی کوشش کررہے تھے کہ ان کے پاس بھینسوں کی منتقلی کے متعلق تمام دستاویزات ہیں۔ ہم غیرقانونی طور پر بھینسیں منتقل نہیں کررہے ہیں لیکن ان لوگوں نے کچھ نہیں سنا اور چاروں طرف افراتفری پھیل گئی اور لوگ جمع ہوتے گئے اور حملہ کرتے رہے۔ حملہ آوروں نے گھونسوں اور لاٹھیوں سے پیٹا۔ ان لوگوں نے معصوم جانوروں کو بھی مارا پیٹا۔ یہ جانور ادھر ادھر دوڑنے لگے۔ حملہ آوروں نے ہمارے موبائیل فون بھی چھین لئے اور دیگر سازوسامان کوبھی اڑا لیا۔ ہم میں سے چند لوگ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور قریبی جنگلوں میں چھپ گئے اور وہاں سے ہی پولیس کو اطلاع دی گئی۔ رئیس نے بتایا کہ پولیس 15 ، 20 منٹ بعد وہاں پہنچی لیکن اس وقت تک حملہ آور فرار ہوگئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہیکہ متاثرین کو معمولی زخم آئے ہیں اور انہیں دواخانہ سے ڈسچارج کردیا گیا ہے۔ ملزمین کی شناخت کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان ٹرکوں میں بھینسوں کو گنجائش سے زیادہ بھر کر لے جایا جارہا تھا جس کی وجہ سے حملہ آوروں اور ٹرک میں سوار افراد کے درمیان بحث ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT