Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / دہلی میں لگژری ڈیزل کاروں پر عارضی امتناع

دہلی میں لگژری ڈیزل کاروں پر عارضی امتناع

ٹرکس پر محاصل ، آلودگی کی روک تھام کیلئے سپریم کورٹ کا اقدام
نئی دہلی۔ 16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک کے دارالحکومت دہلی میں آلودگی کی انتہائی خطرناک صورتحال کے پیش نظر سپریم کورٹ نے آج بڑی ڈیزل کاروں پر عارضی امتناع عائد کردیا اور دہلی میں داخل ہونے والے ٹرکس پر محاصل (ٹیکس) میں بھی اضافہ کیا ہے۔ عدالت نے اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل (ایس یو وی) اور 2,000 سی سی یا اس سے زائد انجن والی ڈیزل کاروں پر فوری اثر کے ساتھ امتناع عائد کردیا جو 31 مارچ تک قابل عمل رہے گا۔ عدالت کے اس فیصلہ سے متمول طبقہ پر زیادہ اثر پڑے گا۔ چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر ،جسٹس اے کی سیکری اور آر بانو متی پر مشتمل بینچ نے کہا کہ چھوٹی کاروں پرکوئی پابندی عائد نہیں کی جارہی ہے لہذا ہندوستان کا عام آدمی متاثر نہیں ہوگا، تاہم دیگر ریاستوں کو جانے کیلئے شہر کا راستہ استعمال کرنے والے ٹرکس پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دارالحکومت میں 10 سال سے زائد پرانے ٹرکس پر بھی امتناع عائد کردیا گیا ہے۔ دہلی میں آلودگی کی روک تھام کیلئے دیگر اقدامات میں اوبیر اور مقامی حریف اولا کیلئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ ڈیزل کے بجائے قدرتی گیاس کو بطور متبادل ایندھن استعمال کرے۔ جنوری میں ججس ملک میں فروخت ہونے والی تمام ڈیزل کاروں پر گرین ٹیکس لاگو کرنے پر بھی غور کریں گے۔ کار بنانے والی کمپنیوں نے عدالت کے اس فیصلہ پر متضاد ردعمل کا اظہار کیا۔ مہیندرا اینڈ مہیندرا نے کہا کہ اس فیصلہ سے صرف 5.5% اور مجموعی طور پر ماہانہ فروخت پر صرف 2% اثر ہوگا۔ جرمنی کی لگژری کار ساز کمپنی مرسڈیز بینز نے کہا کہ عدالتی فیصلہ سے ہندوستان میں مستقبل کی سرمایہ کاری پر اثر پڑے گا اور کئی افراد روزگار سے محروم ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے مرسڈیز کمپنی کے تمام ماڈلس متاثر ہوں گے۔ کمپنی نے کہا کہ یہ فیصلہ مجموعی طور پر آٹو انڈسٹری پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ اس امتناع سے غیریقینی صورتحال پیدا ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT