Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / دہلی میں ڈینگو سے 15اموات اور 2ہزار افراد متاثر

دہلی میں ڈینگو سے 15اموات اور 2ہزار افراد متاثر

دواخانوں میں مریضوں کا ہجوم، انسدادی اقدامات پر دہلی ہائی کورٹ کی وضاحت طلبی

نئی دہلی۔/17ستمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) قومی دارالحکومت دہلی میں آج ایک 3سالہ لڑکی ڈینگو سے فوت ہوجانے کے بعد عوام میں خوف و دہشت مزید بڑھ گیا۔ جبکہ اس مرض سے اب تک 15 اموات اور 2000 سے زائد افراد متاثر ہوگئے ہیں۔ یہ خطرناک مرض مچھروں سے پھیلتا جارہا ہے۔ دہلی حکومت جس پر صورتحال سے موثر طریقہ سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام ہے، بتایا کہ ہنگامی حالات میں مریضو ں کے علاج سے انکار پر خانگی دواخانوں کے خلاف کارروائی کیلئے ایک آرڈیننس جاری کیا جائے گا۔سیکٹ سٹی ہاسپٹل میں کل ایک 3سالہ لڑکی للت نیہا کی موت واقع ہوگئی جس پر والدین نے الزام عائد کیا کہ جنوبی دہلی میں واقع ایک سرکاری ہاسپٹل اور ایک خانگی نرسنگ ہوم میں ڈینگو سے متاثرہ ان کی لڑکی کا مناسب علاج نہیں کیا گیا۔ سنگم وہار علاقہ کی ساکن نیہا شہر دہلی کی تیسری لڑکی ہے جس کی موت ڈاکٹروں کی لاپرواہی سے ہوئی ہے۔

دواخانوں میں ڈینگو کے مریضوں کے اژدھام کے پیش نظر میونسپل عہدیداروں نے بتایا کہ جاریہ سال متاثرین کی تعداد 2000 تک پہنچ گئی ہے۔ جس میں 1200متاثرین گزشتہ دو ہفتوں میں دواخانوں سے رجوع ہوئے ہیں۔ سرکاری حکام نے بتایا کہ نئے آرڈیننس میں یہ اختیار رہے گا کہ حکومت کی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر خانگی ہاسپٹلوں کا لائسنس منسوخ کردیا جائے ۔ دریں اثناء ڈینگو کے مریضوں میں مسلسل اضافہ کے پیش نظر حکمران عام آدمی پارٹی نے بتایا کہ دہلی کے مختلف مقامات پر مریضوں کے مفت علاج کیلئے خصوصی کلینکس قائم کئے جائیں گے۔ اور یہ الزام عائد کیاکہ میونسپل کارپوریشن میں برسر اقتدار بی جے پی ڈینگو کے مرض پر قابو پانے میں یکسر ناکام ہوگئی ہے جبکہ حکومت دہلی کے ہاسپٹلوں میں اسٹاف کی قلت کو دور کرنے کیلئے تمام ڈاکٹرس اورطبی عملہ بشمول نرسیس اور لیب ٹیکنیشنس کی رخصتیں منسوخ کردی گئی ہے اور احتیاطی تدابیر کے طور پرتمام اسکولوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ مچھروں کی کاٹ سے بچانے کیلئے آئندہ ایک ماہ تک بچوں کو یونیفارم کی بجائے مکمل آستین کا شرٹ ، پتلون

اور شلوار قمیض کے استعمال کی اجازت دیں۔دریں اثناء کانگریس نے ڈینگو کی روک تھام میں دہلی حکومت کی ناکامی کے خلاف آج چیف منسٹر ارویند کیجروال کی قیامگاہ کے روبرو احتجاج کیا۔ صدر دہلی پردیش کانگریس جئے ماکن جنہوں نے احتجاج کی قیادت کی تھی الزام عائد کیا کہ  عاپ حکومت ڈینگو کی صورتحال سے نمٹنے میں یکسر ناکام ہوگئی ہے اور مریضوں کی موت کیلئے چیف منسٹر ارویند کیجروال کو مورد الزام ٹہرایا۔ علاوہ ازیں قومی دارالحکومت میں ڈینگو کیس میں اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے آج مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے وضاحت طلب کی ہے کہ مہلک مرض کی روک تھام کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں ۔چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس جینت ناتھ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے اس مسئلہ کو سنگین قرار دیتے ہوئے مرکز ، دہلی حکومت، میونسپل کارپوریشن اور این ڈی ایم سی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے24ستمبر تک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

 

ہریانہ ڈینگو اور ملیریا کی لپیٹ میں
سینکڑوں افراد متاثر۔ ڈینگو سے ایک شخص زندگی گنوا بیٹھا
چندی گڑھ 17 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ہریانہ میں بھی ڈینگو کے معاملات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ یہاں آج تک جملہ 630 افراد ڈینگو سے متاثر ہوئے ہیں۔ گڑگاوں میں سب سے زیادہ ڈینگو کیسیس کا پتہ چلا ہے ۔ ریاستی محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے بموجب ڈینگو نے ریاست میں ایک جان بھی لے لی ہے۔ ایک شخص انبالہ میں فوت ہوگیا ہے جبکہ پانی پت میں بھی ایک شخص کی ڈینگو سے موت کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ کل تک ریاست میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد 570 بتائی گئی تھی جبکہ آج یہ تعداد بڑھ کر 630 تک جا پہونچی ہے ۔ اب تک صرف گڑگاؤں سے ڈینگو کے 208 کیسیس سامنے آئے ہیں۔ ہریانہ کے ڈائرکٹر جنرل ہیلت سروسیس ڈاکٹر ڈی پی لوچن نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ ملیریا کے 3500 کیسیس ریاست میں سامنے آئے ہیں اور میوات ضلع اس معاملہ میں سب سے زیادہ متاثر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی جانب سے عوام کیلئے کچھ مشورے جاری کئے گئے ہیں اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ان پر عمل کریں تاکہ ڈینگو اور ملیریا کو پھیلنے سے روکا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ ریاست میں ڈینگو اور ملیریا کی صورتحال قابو میں ہے تاہم عوام کا تعاون بہت ضروری ہے تاکہ ان بیماریوں کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے ۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ کولرس میں دو تین کا رکھا ہوا پانی استعمال نہ کریں۔ پھولدانوں میں پانی جمع ہونے نہ دیںاور صفائی کے دیگر اقدامات پر توجہ دیں۔

TOPPOPULARRECENT