Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / ’’دہلی پولیس کا کنٹرول ہمارے حوالے کیا جائے ‘‘

’’دہلی پولیس کا کنٹرول ہمارے حوالے کیا جائے ‘‘

عصمت ریزی واقعات کیلئے وزیراعظم مودی جوابدہ ، لیفٹننٹ گورنر پر تنقید : کجریوال
نئی دہلی۔ 17 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی پولیس کا کنٹرول، شہر کی حکومت کے حوالے کرنے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے چیف منسٹر اروند کجریوال نے وزیراعظم اور لیفٹننٹ گورنر سے دو کمسن لڑکیوں کی اجتماعی عصمت ریزی واقعات کے پس منظر میں ملاقات کا وقت مانگا ہے۔ چیف منسٹر نے دہلی پولیس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی پر زور دیا کہ وہ عملی مظاہرہ کریں یا پھر عام آدمی پارٹی حکومت کو دہلی کا لا اینڈ آرڈر حوالے کرے۔ کجریوال نے سلسلہ وار ٹوئیٹس میں کہا کہ ’’جناب وزیراعظم! برائے مہربانی دہلی پولیس کا کنٹرول ایک سال کے لئے حکومت دہلی کے حوالے کریں، اگر صورتحال بہتر نہ ہو تو یہ کنٹرول آپ واپس لے لیں۔ انہوں نے وزیراعظم اور لیفٹننٹ گورنر سے دہلی میں خواتین کی حفاظت کے بارے میں تبادلہ خیال کیلئے وقت بھی مانگا۔ دہلی میں یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے جبکہ ایک ہفتہ قبل ہی 4 سالہ لڑکی کی عصمت ریزی کی گئی تھی۔ کجریوال نے آج ان ہاسپٹل کا دورہ کیا جہاں یہ متاثرہ لڑکیاں زیرعلاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے پاس اس قدر فنڈس ہیں کہ وہ پولیس کا کنٹرول حاصل کرتے ہوئے سکیورٹی فراہم کرسکتی ہے۔

انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کا یہ موقف ہے کہ دہلی پولیس کے لئے اس کے پاس رقم نہیں، جبکہ 16 ہزار جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں پھر وہ دہلی پولیس کا کنٹرول اپنے پاس کیوں رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس کنٹرول دہلی حکومت کے حوالے کیا جائے۔ ہمارے پاس فنڈس ہیں اور ہم دہلی کے شہریوں کو سکیورٹی فراہم کرنے تیار ہیں۔ انہوں نے عصمت ریزی کے متواتر پیش آئے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لئے انتہائی شرمناک اور فکر کا باعث ہیں۔ دہلی پولیس تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ وزیراعظم اور ان کے لیفٹننٹ گورنر کیا کررہے ہیں؟ کجریوال نے کہا کہ دہلی پولیس اس وقت مرکز کے کنٹرول میں ہے لہذا جو کچھ ہورہا ہے، اس کے لئے مودی جوابدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لیفٹننٹ جنرل نجیب جنگ سے بھی ملاقات کرنا چاہتے ہیں جنہیں صرف عآپ حکومت کے کام میں مداخلت میں دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں آئے دن عصمت ریزی کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھتے جارہے ہیں اور پولیس عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کیلئے پر وزیراعظم نریندر مودی اور لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ پر تنقید کی۔

 

عصمت ریزی پر بی جے پی لیڈر کا متنازعہ  ریمارک
بنگلورو۔17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)سینئر بی جے پی لیڈر کے ایس ایشورپا سابق کرناٹک ڈپٹی چیف منسٹر نے آج یہ کہتے ہوئے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے کہ ’’اگر کوئی کسی کو گھسیٹ کر لیجائے اور عصمت ریزی کرے‘‘ تو اپوزیشن پارٹیاں کیا کرسکتی ہیں؟ ایک خاتون صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے یہ جواب دیا جس پر اپوزیشن نے شدید تنقید کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا ہے۔ بعدازاں ایشورپا نے اپنا موقف واضح کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT