Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / دہلی : ڈینگو سے ہلاکتوں کی تعداد 11

دہلی : ڈینگو سے ہلاکتوں کی تعداد 11

نئی دہلی 15 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی میں آج ایک 6 سالہ بچہ اور ایک خاتون ڈینگو بخار سے ہلاک ہوگئے۔ چیف منسٹر کجریوال نے کہاکہ اس طرح ہلاکتوں کی جملہ تعداد 11 ہوگئی۔ حکومت خانگی دواخانوں کو عارضی طور پر حکومت کے زیرانتظام لینے پر غور کررہی ہے جبکہ ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا نے دہلی کے تمام اسکولس کو بچوں کے لباس کے بارے میں ہدایات جاری کردیں کہ پورے آستین والے شرٹ ، پتلون اور شلوار، قمیص آئندہ ایک ماہ تک لازمی طور پر پہنے جائیں تاکہ مچھروں کے کاٹنے سے بچ سکیں۔

سرکاری اور خانگی ہاسپٹلوں میں لاپرواہی کی شکایت
نئی دہلی ۔ 15 ۔ ستمبر : ( سیاست ڈاٹ کام) : دہلی میں ڈینگو سے ایک اور لڑکا فوت ہوگیا ہے جس کے لیے ارکان خاندان نے دواخانوں کی غفلت اور لاپرواہی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے ۔ گذشتہ ہفتہ بھی ایک لڑکا اویناش ، خانگی ہاسپٹلوں میں ڈینگو کے علاج سے انکار کے بعد فوت ہوگیا تھا ۔ جنوبی دہلی کے علاقہ سرینواس پوری کا ساکن 6 سالہ امان دہلی میں ڈینگو سے فوت ہونے والا 10 واں مریض ہے ۔ متوفی والد منوج شرما نے بتایا کہ ایک خانگی ہاسپٹل میں ڈینگو کی تشخیص کے بعد 9 ستمبر کو صفدر جنگ ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا ۔ جہاں پر ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ لڑکا ڈینگو سے متاثر نہیں ہے اور اسے شریک کروانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس وقت لڑکے کی حالت مستحکم تھی ۔ جس کے پیش نظر اسے مکان واپس لالیا گیا ۔ لیکن جمعہ کے دن اس کی حالت تشویشناک ہوگئی اور اسے مہارانی باغ کے جیون ہاسپٹل میں شریک کروایا گیا ۔ ڈاکٹروں نے ہفتہ کی صبح ( شب 2-30 بجے ) بتایا کہ لڑکے کی حالت نازک ہوگئی ہے اور اس کے علاج کے لیے ہاسپٹل میں مناسب آلات نہیں ہے لہٰذا اسے کسی بڑے دواخانہ میں شریک کروایا جائے ۔ بعد ازاں والدین نے اس لڑکے کو میکس سیکٹ ، مولچند اور باترا میں شریک کروانے کی کوشش کی ، لیکن وہاں پر بستر ( بیڈ ) دستیاب نہ ہونے کا عذر پیش کیا گیا ۔ اس لڑکے کو دوبارہ صفدر جنگ ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا جہاں پر دو تین گھنٹوں تک رکھا گیا تاہم لڑکے کی ابتر حالت کے پیش نظر ہولی فیملی ہاسپٹل اوکھلا روڈ منتقل کردیا گیا

جہاں پر ڈینگو کا معائنہ کرنے پر مثبت پایا گیا اور وہ اتوار کی شام فوت ہوگیا ۔ متوفی کے والد نے بتایا کہ ہماری اصل شکایت صفدر جنگ ہاسپٹل کے خلاف ہے جہاں پر ہمارے لڑکے کو 24 گھنٹوں تک بغیر کسی علاج کے رکھا گیا اور ڈاکٹروں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑکے کو ڈینگو نہ ہونے کی رپورٹ دی تھی لیکن خانگی ہاسپٹل میں ڈینگو کا ٹسٹ پازیٹیو پایا گیا ۔ انہوں نے دریافت کیا کہ اگر سرکاری ہاسپٹل کی حالت اسی طرح ہوگی تو عوام کہاں جائیں گے ۔ اس لڑکے کی موت کے بعد شہر دہلی میں ڈینگو سے مرنے والوں کی تعداد 10 تک پہنچ گئی ہے ۔ تاہم میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کے اعداد و شمار ڈینگو کی اموات صرف 5 تک محدود ہے ۔ دریں اثناء دہلی حکومت نے ایک 7 سالہ لڑکے اویناش راوت کے موت کی مجسٹرئیل تحقیقات کا حکم دیدیا ۔ جس کی 5 دواخانوں میں ڈینگو کے علاج سے انکار کے بعد موت واقع ہوگئی تھی ۔ دہلی کے وزیر صحت سنیندر جین نے بتایا کہ اس پورے واقعہ کی مجسٹرئیل تحقیقات کا حکم دیدیا گیا ہے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے کہا گیا ہے کہ 5 ہاسپٹلوں میں نصب کردہ کیمروں کے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے سلسلہ وار واقعات کا جائزہ لیا جائے اور بعد تحقیقات رپورٹ پیش کی جائے ۔ گذشتہ ہفتہ کے دن حکومت نے 5 ہاسپٹلوں مولچند ، میکس سیکٹ ، سیکٹ سٹی ، اکاش ہاسپٹل اور ایرنے ہاسپٹل کو وجہ نمائی نوٹس جاری کرتے ہوئے یہ دریافت کیا گیا کہ ڈینگو سے متاثرہ لڑکے اویناش کے علاج سے انکار پر ان کے لائسنس منسوخ کیوں نہ کئے جائیں ۔ اس لڑکے کی موت سے دل برداشتہ اس کے والدین نے جنوبی دہلی کی ایک 4 منزلہ عمارت سے چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی تھی ۔۔

 

 

TOPPOPULARRECENT