Saturday , September 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / دہلی کا آج کولکتہ سے مقابلہ ،کرکٹ کے کنگ کارلوس مرکزِ توجہ

دہلی کا آج کولکتہ سے مقابلہ ،کرکٹ کے کنگ کارلوس مرکزِ توجہ

ورلڈ ٹی ۔20 میں بن اسٹوکس کے چھکے چھڑانے والے براتھوائٹ ،میزبان کی ٹیم کیلئے چیلنج

کولکتہ۔ 9 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ورلڈ ٹی۔ 20 فائنل میں بڑی حد تک ناقابل یقین اور تعجب خیز فقیدالمثال مظاہرہ کے ساتھ دنیائے کرکٹ کا ایک انتہائی پرکشش ستارہ بن جانے کے بمشکل ایک ہفتہ بعد کارلوس براتھوائیٹ طوفانی انداز میں رنز بنانے کیلئے جادوئی بیاٹ کے ساتھ دوبارہ ایڈن گارڈنس پہونچ رہے ہیں جہاں کل اتوار کو ان کی ٹیم دہلی ڈیر ڈیولس کا مقابلہ میزبان کولکتہ نائٹ رائیڈرس سے ہوگا۔ آئی پی ایل کرکٹ کے اس میچ سے بالکل ایک ہفتہ قبل براتھوائٹ نے گزشتہ اتوار کو ایڈن گارڈنس پر بن اسٹوکس کی چار گیندوں پر لگاتار چار چھکے لگاتے ہوئے راتوں رات کنگ کارلوس اور کرکٹ اسٹار بن گئے تھے

اور ان کے طوفانی چھکوں کی بدولت ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو ورلڈ ٹی۔ 20 فائنل میں حیرت انگیز کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ ان کا یہ کارنامہ تمام کرکٹ شائقین کی یادوں میں بالکل تازہ ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ڈیر ڈیولس میں براتھوائیٹ کی شمولیت یقینا ان کی ٹیم کے جذبہ اور حوصلہ کو انجام بخشے گی، حالانکہ بے پناہ دولت سے مالا مال آئی پی ایل میں وہ اب تک ایک کم معروف اور نسبتاً کو قیمتی کھلاڑی سمجھے جاتے تھے۔ علاوہ ازیں گوتم گمبھیر کے زیرقیادت کے کے آر کے خلاف کسی ٹیم کا کھیلنا بلاشبہ میزبانوں کیلئے ایک نفسیاتی فائدہ بھی ہے کیونکہ اس علاقہ کی ٹیم کا اپنے مقامی میدان پر اچھا ریکارڈ رہا ہے۔ ڈیر ڈیولس اس سیریز میں جیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہے

جبکہ کے کے آر بھی اپنا مقام کھونا نہیں چاہتی جو گزشتہ پانچ سال کے دوران تین مرتبہ رنراَپ ٹیم کی حیثیت سے سلور کپ حاصل کرچکی ہے۔ ڈیر ڈیولس ایک ایسی ٹیم ثابت ہوئی ہے جس نے انتہائی باصلاحیت کھلاڑیوں پر توجہ مرکوز کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صلاحیتوں کی بھرمار نے بالآخر فائدہ کے بجائے مشکلات پیدا کی لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس مرتبہ یہ ٹیم بدلی ہوئی نظر آتی ہے۔ کم سے کم کاغذ پر یہ تبدیلی محسوس کی جارہی ہے، کیونکہ اس میں کم عمر اور نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ موقع دیا گیا ہے۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ ڈی ڈی نے کچھ عرصہ قبل ہی آ:ی پی ایل ہراج کے دوران برائیتھوائٹ کو صرف 4.2 کروڑ روپئے میں حاصل کیا تھا کیونکہ اس وقت وہ کوئی معروف کھلاڑی نہیں تھے لیکن ٹیم میں ان کی شمولیت کیلئے ڈی ڈی کے انتظامیہ کی غیرمعمولی ستائش کی جانے لگی ہے کیونکہ انہوں نے ورلڈ ٹی۔20 میں ناقابل یقین حد تک فقیدالمثال مظاہرہ کیا ہے۔ یہ بات اور ہے کہ ڈی ڈی کے کپتان ظہیر خاں اب وہ نہیں رہے جو پہلے تھے لیکن نوجوان ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے37 سالہ ظہیر خاں کے تجربات ان کی ٹیم کیلئے قیمتی اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT