Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / دہلی کے برطرف وزیر کپل مشرا کی سی بی آئی میں تین شکایات

دہلی کے برطرف وزیر کپل مشرا کی سی بی آئی میں تین شکایات

عآپ فنڈس کے بیجا استعمال کا الزام ، بھوک ہڑتال کی دھمکی ، واٹر ٹینکر اسکام میں کل بیان قلمبند کرائیں گے

نئی دہلی۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کے برطرف وزیر کپل مشرا نے آج سی بی آئی میں چیف منسٹر اروند کجریوال، وزیر ستیندر جین اور عآپ قائدین کے خلاف تین شکایات درج کرائی جنہوں نے مبینہ طور پر غیرملکی دوروں میں پارٹی فنڈس کا بے جا استعمال کیا۔ کروال نگر کے رکن اسمبلی کو کل پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے معطل کردیا گیا تھا۔ انہوں نے عام آدمی پارٹی کے پانچ قائدین کے بیرونی دوروں کی تفصیلات منظر عام پر نہ لانے کی صورت میں کل سے بھوک ہڑتال شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ کپل مشرا نے بتایا کہ انہوں نے ستیندر جین اور کجریوال کے مابین 2 کروڑ روپئے کے تبادلے، چیف منسٹر کے برادر نسبتی کیلئے 50 کروڑ روپئے مالیتی اراضی معاملت اور پانچ عآپ قائدین کی جانب سے بیرونی دوروں پر پارٹی فنڈس کے مبینہ بے جا استعمال کے تعلق سے سی بی آئی میں شکایات درج کرائی ہے۔ قبل ازیں عام آدمی پارٹی رکن اسمبلی نے اپنے سابق ’’گرو‘‘ اروند کجریوال کو کھلا مکتوب تحریر کیا اور ان کے خلاف شکایت درج کرانے سے پہلے انہیں سے آشیرواد لیا۔ انہوں نے ان کی پسند کے مطابق کسی بھی نشست سے ان (کپل مشرا) کے خلاف انتخابی مقابلہ کا چیلنج بھی کیا۔ سابق وزیر آب کپل مشرا نے کل اینٹی کرپشن برانچ میں دستاویزات پیش کرتے ہوئے 400 کروڑ روپئے ٹینکر اسکام کی تحقیقات میں تاخیر کیلئے کجریوال کو موردالزام قرار دیا تھا۔ آج انہوں نے دہلی جل بورڈ میں اس اسکام کے تعلق سے تفصیلی بیان قلمبند کروایا۔

اینٹی کرپشن بیورو کے سربراہ مکیش کمار نے تازہ پیشرفت کی توثیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ کپل مشرا نے اسکام کے بارے میں دستاویزات پیش کئے ہیں۔ مشرا 11 مئی کو دوپہر اینٹی کرپشن بیورو دفتر میں اپنا بیان قلمبند کروائیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اروند کجریوال اور ان کے ’’دو آدمیوں‘‘ نے اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے واٹر ٹینکر اسکام کی تحقیقات میں تاخیر کی، حالانکہ یہ اسکام پیشرو چیف منسٹر شیلا ڈکشٹ کے دور میں ہوا تھا۔ اینٹی کرپشن بیورو نے اس اسکام میں شیلا ڈکشٹ کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کے سلسلے میں گزشتہ سال اگست میں ان سے پوچھ تاچھ بھی کی تھی۔ بیورو نے انہیں 18 تحریری سوالات دیئے تھے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد کپل مشرا نے بی جے پی پر شیلا ڈکشٹ کو بچانے کا الزام عائد کیا تھا لیکن انہوں نے عام آدمی پارٹی حکومت پر شیلا ڈکشٹ کے تحفظ کا الزام عائد کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی حکومت نے جون 2015ء اس اسکام کا جائزہ لینے کے لئے حقائق کا پتہ چلانے والی کمیٹی قائم کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ دہلی جل بورڈ کی جانب سے تقریباً 385 اسٹین لیس اسٹیل واٹر ٹینکرس کے حصول میں مبینہ طور پر بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ حقائق کا پتہ چلانے والی کمیٹی نے گزشتہ سال جون میں اپنی رپورٹ اس وقت کے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ کو پیش کردی تھی جس کے بعد اس معاملے میں ایف آئی آر درج کیا گیا تھا۔ کپل مشرا نے وزارت برطرفی کے بعد یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے عام آدمی پارٹی حکومت پر اسکام کی تحقیقات میں تاخیر اور شیلا ڈکشٹ کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT