Monday , October 23 2017
Home / ہندوستان / دہلی کے معطل عہدیدار رضاکارانہ سبکدوشی کے خواہشمند

دہلی کے معطل عہدیدار رضاکارانہ سبکدوشی کے خواہشمند

رشوت ستانی کیس میں سی بی آئی کے رویہ پر تنقید
نئی دہلی۔/5جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) رشوت ستانی کیس میں سی بی آئی کی جانب سے چارج شیٹ داخل کئے جانے کے ایک ماہ بعد رضاکارانہ وظیفہ حسن پر سبکدوشی کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے چیف منسٹر ارویند کجریوال کے سابق پرنسپال سکریٹری راجندر کمار نے یہ الزام عائد کیا کہ تفتیش کار ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ کیس میں چیف منسٹر کو بھی ماخوذ کریں۔ دہلی کے چیف سکریٹری کو موسومہ ایک مکتوب میں راجندر کمار نے جو کہ 1989 بیاچ کے آئی اے ایس عہدیدار ہیں بتایا ہے کہ انہیں مروجہ نظام اور طریقہ کار کا تلخ تجربہ پہلی مرتبہ ہوا۔ کمار نے اپنے خلاف رشوت ستانی کیس کی سی بی آئی تحقیقات کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ مجھ سے یہ کہا گیا کہ اگر وہ چیف منسٹر ارویند کجریوال کو پھانس لیں گے تو انہیں منسوبہ الزامات سے آزاد کردیا جائے گا۔ انہوں نے یہ شکایت کی کہ مرکزی تحقیقاتی ادارہ اپنے اختیارات سے تجاوز کررہا ہے اور نہ صرف مجھے ( کمار ) بلکہ چیف منسٹر کو پھانسنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے جس کیلئے درجنوں افراد کو زدوکوب کرکے مستقل معذور کردیا جارہا ہے۔ گذشتہ سال جولائی میں گرفتاری کے وقت راجندر کمار، چیف منسٹر کے پرنسپال سکریٹری تھے جنہیں بعد ازاں معطل کردیا گیا تھا۔ یہ ادعا کیا جارہا ہے کہ ڈسمبر 2013 میں کجریوال کے دفتر سے وابستہ ہونے کے بعد سے ہراسانی شروع کردی گئی تھی۔ واضح رہے کہ کنٹراکٹس کی منظوری میں بے قاعدگیوں سے حکومت دہلی کو 12 کروڑ کے نقصان کی شکایت پر سی بی آئی نے ملزمین کے خلاف ایف آئی آر درج کیا تھا جس میں 3کروڑ کی رشوت حاصل کرنے کا الزام ہے۔ دریں اثناء سی بی آئی نے سابق پرنسپال سکریٹری راجندر کمار کے ان الزامات کی پرزور تردید کی ہے کہ عام آدمی پارٹی سربراہ کوپھانسنے کیلئے ایجنسی کے عہدیداروں نے انھیں ( کمار ) دھمکایا ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ رشوت ستانی کیس میں چارج شیٹ داخل کئے جانے کے بعد اس طرح کے بے بنیاد الزامات دراصل کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے جو کہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔

TOPPOPULARRECENT