Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / دہلی یونیورسٹی کے سابق لکچرر گیلانی کی ضمانت منظور

دہلی یونیورسٹی کے سابق لکچرر گیلانی کی ضمانت منظور

نئی دہلی 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی یونیورسٹی کے سابق لکچرر ایس اے آر گیلانی کو دہلی کی ایک عدالت نے غداری کے الزام میں دائر کردہ مقدمہ میں ضمانت منظور کردی۔ گزشتہ ماہ پریس کلب میں منعقدہ ایک تقریب کے بعد اُن پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا۔ اڈیشنل سیشن جج دیپک گارگ نے پروفیسر گیلانی کو 50 ہزار روپئے کی شخصی ضمانت اور اتنی ہی رقم کی دوسری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ گیلانی کے وکیل نے درخواست ضمانت پر بحث میں کہاکہ گیلانی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ انھوں نے نہ مخالف ہند نعرے لگائے اور نہ دوسروں کو اُس کی ترغیب دی۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ دانشوروں کا اجلاس تھا جس میں مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس تقریب میں ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے تشدد ہوسکے یا پھر کسی کو اشتعال مل سکے۔ اُنھوں نے کہاکہ صرف نعرہ بازی کرنا ایسا جرم نہیں ہے جس کو غداری قرار دیا جائے۔ دہلی پولیس نے تاہم ضمانت کی شدید مخالفت کی اور کہاکہ یہ تقریب دراصل ہندوستان پر حملہ تھا اور یہ عدالت کی تحقیر تھی۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اسی کا تسلسل تھا جو ایک دن قبل جے این یو میں پیش آیا تھا۔ خود پریس کلب کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ یہاں مخالف ہند نعرے لگائے گئے تھے جس میں گیلانی شامل تھے۔ اس نعرہ بازی کے ذریعہ گیلانی نے ملک کے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی تھی۔ 19 فروری کو مجسٹریٹ کی ایک عدالت نے گیلانی کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔ اُنھیں 16 فروری کو گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس کا الزام تھا کہ گیلانی اور اُن کے ساتھی حکومت کے خلاف نفرت پیدا کررہے ہیں۔ پولیس نے عدالت میں بتایا کہ 10 فروری کو منعقدہ اس تقریب کے لئے جو بیانرس استعمال کئے گئے تھے اُن میں پارلیمنٹ حملہ کیس کے سزا یافتہ افضل گرو اور مقبول بھٹ کو شہید ظاہر کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ پولیس کلب میں ہال گیلانی نے اپنے ساتھی علی جاوید کے ذریعہ بُک کیا تھا اور اپنا کریڈٹ کارڈ استعمال کیا تھا۔ اس معاملہ میں مدثر نامی ایک اور فرد بھی ملوث ہے۔ پولیس کے بموجب اس تقریب میں افضل گرو کی ستائش کے نعرے لگائے گئے جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا۔ گیلانی کو پارلیمنٹ حملہ کیس میں بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم ثبوتوں کی کمی کے باعث عدالت نے اُنھیں باعزت بری کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT