Saturday , July 22 2017
Home / ہندوستان / دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کی پہل

دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کی پہل

ممبئی،21مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ممبئی میں واقع گزشتہ شب ایک اہم ترین جلسہ میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور مسلک کے وابستہ علماء کرام اور مختلف تعلیمی اور علمی اداروں سے منسلک معززین نے شرکت کی اور موجودہ حالات کے مدنظر اس بات کا عزم کیا کہ دینی درس گاہوں میں زیر تعلیم حفاظ اور عالم کو عصری تعلین حاصل کرنے کے مکمل مواقع فراہم کیے جائیں گے اورانہیں برسرروزگار کرنے کے لیے ہرممکن تعاون کیا جائے گا۔اس ضمن میں کرناٹک کے شہر بیدر میں شاہین ایجوکیشنل گروپ آف انسٹی ٹیوشن کے ذریعے کی جانے والی کوشش کی ستائش کی گئی جہاں کئی حافظ قرآن ایم بی بی ایس کے ذریعہ طبّی تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ملک بھر میں شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشن کے تحت متعددمراکز قائم کیے جاچکے ہیں۔اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹریڈاکٹر عبدالقدیرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام طورپر ایک حافظ قرآن اور عالم دین کو امامت کرنے والا یا مدرسہ میں درس وتدریس دینے والا ہی سمجھا جاتا ہے ،لیکن اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ ایسے دینی تعلیم حاصل کرنے والے عصری تعلیم میں بھی نمایاں کارنمائے انجام دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شاہین گروپ کے ذریعے ‘حفظ القران پلس کورس کے تحت حفاظ تھے اور انہوں نے اپنی صلاحیت کی بنیاد پرعصری تعلیم میں بھی بہتر ین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حافظ اور عالم دین کافی ذہین اور محنتی ہوتے ہیں اور اگر ان پر محنت کی جائے او رانہیں مکمل تعاون ملے تو وہ اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوسکتے ہیں۔ان میں آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران بھی بن سکتے ہیں۔ڈاکٹرعبدالقدیر نے کہاکہ پانچ سال قبل مذکورہ کورس شروع کیا گیا اور اس کے بہترین نتائج سامنے آرہے ہیں۔اور ملک بھر ان مراکز کی تعداد 12سے تجاوز کرجائے گی۔فی الحال ممبئی میں شمال مغربی علاقہ گورے گاؤں میں واقع دارالعلوم قاسمیہ میں اس کا افتتاح کیا گیا ۔اور ماہ رمضان کے بعد اس کی شروعات ہوگی۔انجمن اسلام کے صدرڈاکٹر ظہیر قاضی نے اعلان کیا کہ ادارہ کے تحت ایسی کوشش کی جائے گی اور انجمن میں بھی جلد ہی مرکز تشکیل کیا جائے گا۔انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم پر بھی توجہ دیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT