Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / دینی مدارس حکومت کے شکنجہ میں، دولت بٹورنے کا الزام

دینی مدارس حکومت کے شکنجہ میں، دولت بٹورنے کا الزام

فرضی دینی مدارس کیخلاف کارروائی، سروا سکھشا ابھیان سے فہرست کی تیاری
حیدرآباد۔9اکٹوبر(سیاست نیوز) دینی مدارس کے نام پر حکومت سے دولت ہڑپنے والوں پر شکنجہ کسنے لگا ہے ۔ سرواسکھشا ابھیان کی جانب سے 32فرضی دینی مدارس پر مبنی ایک اور تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو روانہ کر دی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ ٔ تعلیم کے اعلی عہدیداروں کی جانب سے ان فرضی دینی مدارس کے خلاف کاروائی کے آغاز کے فیصلہ اور محکمہ ٔ تعلیم کے 4عہدیداروں کی معطلی کے بعد سرواسکھشا ابھیان کی دینی مدارس میں عصری تعلیم کی اسکیم کے ذریعہ غیر مجاز دولت بٹورنے والوں میں نہ صرف ودیا والینٹرس ملوث ہیں بلکہ ان فرضی مدارس کے علاوہ بعض مدارس کے ناظم بھی شامل ہیں جو ودیا والینٹرس کے نام پر حاصل ہونے والی رقومات میں اپنا حصہ وصول کیا کرتے تھے۔ سرواسکھشا ابھیان کی جانب سے جاری تحقیقات کے خلاصہ میں 16فرضی مدارس کی تفصیلات منظر عام پر لائے جانے کے بعد کاروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے محکمہ ٔ تعلیم نے4ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولس کو معطل کیا ہے اور اب محکمہ ٔ تعلیم کو 32فرضی دینی مدارس اور ایسے مدارس کی تفصیل روانہ کی گئی ہے جن میں طلبہ کی تعداد کو بڑھا کر پیش کرتے ہوئے زائد ودیا والینٹرس کی تنخواہیں وصول کی جا رہی تھیں۔فرضی دینی مدارس کے ذمہ داران کی یہ حرکت ان دینی مدارس کے لئے باعث خفت بنی ہوئی ہے جو ابتداء سے ہی اس اسکیم میں شامل ہونے سے گریز کرتے ہوئے دینی مدارس کو سرکاری مال سے پاک رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سرواسکھشا ابھیان کی جانب سے وصول ہونے والی ان رقومات کی لوٹ کھسوٹ کے متعلق محکمہ کے اعلی عہدیدار نے بتایا کہ شہر میں جن مدارس نے رقومات میں خرد برد کیا ہے ان کی جامع تفصیلات اکٹھا کرتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی گئی ہے اور رپورٹ میں سخت کاروائی کے علاوہ رقومات کی بازیابی کی سفارش کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جن فرضی دینی مدارس کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا گیا ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرواتے ہوئے ان سے رقومات واپس وصول کرنے اور ان پر مقدمات چلانے کی بھی سفارش کی جا چکی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر ضلع حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے مزید عہدیدار اور ملازمین کے نام بھی سرواسکھشا ابھیان کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں شامل ہے اور ان کے خلاف کاروائی کی بھی سفارش کی جا چکی ہے۔ بعض فرضی دینی مدارس اورطلبہ کی جھوٹی تعداد دکھاتے ہوئے رقومات وصول کرنے والے دینی مدارس کے ذمہ داران اپنے سیاسی رسوخات کی بناء پر کاروائیوں کو رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جبکہ سرکاری طور پر عہدیداروں کی جانب سے تیار کردہ ان رپورٹس کے مشاہدہ کے بعد سیاسی قائدین ان کی مدد تو کجا ان سے ملاقات بھی گوارہ نہیں کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT