Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / دینی مدرسوں میں اُردو اور عربی میں تدریس پر امتناع کا مطالبہ

دینی مدرسوں میں اُردو اور عربی میں تدریس پر امتناع کا مطالبہ

برطانیہ سے سبق سیکھنے کا مشورہ ، انگریزی اور ہندی بطور متبادل تجویز، شیوسینا کے ترجمان روزنامہ ’سامنا‘ کا اداریہ
ممبئی 20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کو حکومت کے انتباہ سے تحریک حاصل کرتے ہوئے کہ تارکین وطن کے ازدواجی ویزے جو انگریزی بولنے کے قابل نہیں ہیں، اپنے اپنے ممالک کو واپس کردینے کے خطرے کا سامنا کررہے ہیں۔ شیوسینا نے آج کہاکہ ہندوستان میں دینی مدرسوں پر اردو اور عربی ذریعہ تعلیم اختیار کرنے پر امتناع عائد کردینا چاہئے اور اس کی جگہ انگریزی اور ہندی ذریعہ تعلیم رائج کیا جانا چاہئے۔ مہاراشٹرا میں بی جے پی حکومت کی حلیف سیاسی پارٹی شیوسینا نے وزیراعظم نریندر مودی اور اُن کے کابینی وزراء پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ممکن ہے کہ وہ ملک کے لئے دیگر ممالک کا دورہ کرکے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہوں لیکن وہ ایسی ہمت کہاں سے لائیں گے جس کے ذریعہ ملک کے داخلی دشمنوں سے مقابلہ کرسکیں۔ شیوسینا نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ جرأت کا مظاہرہ کرے اور یکساں سیول کوڈ نافذ کرے۔ علاوہ ازیں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا آغاز کرے۔ حکومت برطانیہ یہ سوچنے میں غلطی کررہی ہے کہ دولت اسلامیہ کے عسکریت پسند ناخواندہ مسلم خواتین کو اپنے نظریات کی تشہیر کے لئے استعمال کررہے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی کو حکومت برطانیہ سے تحریک حاصل کرنا چاہئے۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان روزنامہ ’سامنا‘ کے ایک اداریہ میں کہاکہ اگر حکومت جرأت کا مظاہرہ کرتی ہے جیسا کہ وزیراعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون نے کیا ہے اور دینی مدرسوں میں اُردو اور عربی ذریعہ تعلیم پر امتناع عائد کردیا تھا، ہندوستان کو بھی فائدہ پہونچ سکتا ہے۔ اگر اُردو اور عربی کے بجائے انگریزی اور ہندی زبانیں ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال کی جائیں۔ حکومت برطانیہ نے اعلان کیاکہ ایک نیا 2 کروڑ پونڈ مالیتی فنڈ برائے تارکین وطن کی اُن کے ملکوں کو حوالگی کے لئے مختص کیا جائے گا، برطانیہ کی حکومت نے حال ہی میں تارکین وطن کو انتباہ دیا ہے کہ اگر اُن کے ازدواجی ویزے پر  برطانیہ منتقل ہونے والے شریک حیات انگریزی داں نہ ہوں تو اُنھیں اُن کے وطن واپس کردیا جائے گا۔ حکومت برطانیہ نے تارکین وطن مسلم خواتین کی زبان کی مہارت بہتر بنانے کے لئے دو کروڑ پونڈ مالیتی فنڈ قائم کیا ہے۔ صرف ہمارے وزیراعظم ہی نہیں دیگر وزراء اور سیاستدانوں کو بیرونی ممالک کے دورے سے فرصت نہیں ہے۔ وہ صنعتوں، تجارت، صلاحیت، ثقافت کے ہندوستان میں منتقل کرنے کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور آخرکار سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن وہ ایسی جرأت کہاں سے لائیں گے تاکہ ملک کے داخلی دشمنوں سے مقابلہ کرسکیں۔ کل وزیراعظم برطانیہ ڈیوڈ کیمرون نے اپنے منصوبوں کی نقاب کشائی کی ہے جس کے تحت انگریزی زبان کی ضرورت کے نئے قواعد میں زیادہ سختی پیدا کی جائے گی تاکہ مسلم برادری کے ارکان کے برطانیہ منتقل ہونے کا انسداد ہوسکے۔ نئے قواعد کا مطلب جاریہ سال اکٹوبر سے تارکین وطن کو 5 سال کے ازدواجی ویزا پر برطانیہ آنے سے روکنا ہے اگر شریک حیات انگریزی کی مہارت نہ رکھتا ہو، اُسے ڈھائی سال بعد ایک امتحان دینا ہوگا تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ اُن کی انگریزی بہتر ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT