Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / دینی مدرسوں کو بدنام کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ

دینی مدرسوں کو بدنام کرنے والوں کے منہ پر طمانچہ

داعش کے مشتبہ حامی گرفتار شدگان میں تین پوسٹ گریجویٹس، 20 گریجویٹس اور متعدد نومسلم
نئی دہلی ۔ 20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ملک کے دینی مدرسوں کو دہشت گردی کے ضمن میں بدنام کرنے والوں کے منہ پر زوردار طمانچہ کے طور پر کلیدی تحقیقاتی ادارہ نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہی کہ اسلامی جہادی گروپ اسلامک اسٹیٹ (داعش) سے رابطہ یا ہمدردی رکھنے کے شبہ میں 2016ء کے دوران گرفتار شدہ 52 افراد میں صرف 20 فیصدکا تعلق دینی دمرسوں سے ہے ماباقی 80 فیصد مشتبہ گرفتار شدگان میں اسکولی تعلیم یافتہ متوسط گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ہیں۔ این آئی اے نے ایک جامع اور منفرد تجزیہ کے بعد کہا کہ مہاراشٹرا اور کیرالا میں داعش سے ہمدردی رکھنے والے مشتبہ افراد کی تعداد نسبتاً زیادہ رہی جو بالترتیب 12 اور 11 ہیں اور تلنگانہ کو تیسرا مقام حاصل ہے جس کے 10 مشتبہ نوجوان اس ضمن میں گرفتار کئے گئے ہیں۔ کرناٹک اور مغربی بنگال سے پانچ پانچ افراد گرفتار کئے گئے لیکن اترپردیش سے جہاں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے صرف چار مشتبہ افراد گرفتار کئے گئے۔ جموں و کشمیر، مدھیہ پردیش اور دہلی سے ایک ایک ملزم گرفتار کیا گیا۔ ان میں 25 سال سے کم عمر نوجوانوں کی اکثریت ہے صرف چار کی عمر 40 سال سے زائد ہے۔ 52 مشتبہ گرفتار شدگان میں تین پوسٹ گریجویٹ اور 20 انجینئرنگ کے ڈگری یافتہ گریجویٹس ہیں جبکہ صرف 20 فیصد یعنی 6 کا تعلق دینی مدرسوں سے ہے ان گرفتار شدگان میں 8.5 فیصد سنی مسلمان ہیں جن کے منجملہ 50 فیصد اہلحدیث، 30 فیصد تبلیغی جماعت اور 20 فیصد دیوبندی ہیں۔ 15 فیصد افراد نومسلم ہیں جو مشرف بہ اسلام ہونے سے قبل ہندو یا عیسائی تھے۔

TOPPOPULARRECENT