Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / دینی مدرسہ پر دھاوا، اقلیتی کمیشن کی کارروائی

دینی مدرسہ پر دھاوا، اقلیتی کمیشن کی کارروائی

عربی اور اردو کی تدریس پر دینی مدرسہ پر سری رام سینا کارکنوں کا حملہ
منگلورو ۔ /18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک کا ریاستی اقلیتی کمیشن ان تمام افراد کے خلاف ’’مناسب کارروائی ‘‘ کرے گا ۔ جنہوں نے بوڈن ٹیلا میں ایک اسکول پر حال ہی میں دھاوا کیا تھا ۔ یہاں سے قریب اس اسکول میں اردو اور عربی زبانوں کی تعلیم دی جارہی تھی ۔ سری راما سینا کے کارکنوں نے سینٹ تھامس امدادی ہائیر پرائمری اسکول پر /30 جولائی کو دھاوا کیا تھا ۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ یہاں پر اردو اور عربی کی تعلیم طلباء کو زبردستی دی جارہی ہے ۔ غیرقانونی داخلے اور فساد برپا کرنے کے الزام میں انتہاپسند بائیں بازو کے کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کئے گئے ہیں اور سری رام سینا کے کئی ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ اقلیتی کمیشن کو عدالتی اختیارات حاصل ہیں ۔ اس نے فیصلہ کیا ہے کہ اسکول پر دھاوا کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ کمیشن کی صدرنشین بلقیس بانو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور سٹی پولیس کمشنر سے رپورٹس حاصل ہونے کے بعد کارروائی کی جائے گی ۔ بلقیس بانو نے کل اسکول کا دورہ کیا اور انتظامیہ ، اساتذہ اور والدین سے تفصیلات حاصل کیں ۔ اسکول کا انتظامیہ عربی ، جرمن اور دیگر غیرملکی زبانیں پڑھا رہا ہے تاکہ طلباء کو مختلف مہارتوں سے آراستہ کیا جاسکے ۔ عربی بحیثیت زبان پڑھائی جاتی ہے تاکہ ملازمت کی تلاش میں خلیجی ممالک جانے والے طلباء کی مدد ہوسکے ۔ ریاستی حکومت نے حال ہی میں کمیشن کو عدالتی اختیارات عطا کئے ہیں ۔ صدرنشین بلقیس بانو نے کہا کہ کمیشن کو دیوانی عدالت کے اختیارات حاصل ہیں وہ کسی کو بھی اپنے اجلاس پر طلب کرسکتا ہے ۔ ریاستی اقلیتی کمیشن اقلیتوں کے زیرانتظام اسکولس کے مسائل سے بخوبی واقف ہے جو مسلمہ سرٹیفکیٹس حاصل کرنے میں اقلیتی طبقات کو پیش آتے ہیں انہیں اقلیت کا موقف حاصل ہونا چاہئیے ۔ ملک گیر سطح پر اقلیتی کمیشنوں کو کسی بھی ریاست میں عدالتی اختیارات حاصل نہیں ہے ۔ کرناٹک کے ریاستی اقلیتی کمیشن کو حکومت تبدیل ہونے کے بعد عدالتی اختیارات دیئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT