Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / دین اسلام میں پاکی کو نصف ایمان کا درجہ

دین اسلام میں پاکی کو نصف ایمان کا درجہ

عوام کیا چاہتے ہیں
دین اسلام میں پاکی کو نصف ایمان کا درجہ
عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کی گندگی نہ پھیلائی جائے ، عوام کو عمل کرنے کی ضرورت
حیدرآباد ۔ /18 ستمبر (سیاست نیوز) عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کی انجام دہی کے بعد مسلمان گندگی کو پھیلانے کے بجائے پاک و صاف ماحول کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے اس بات کا عملی ثبوت دیں کہ دین اسلام میں پاکی کو نصف ایمان قرار دیا ہے ۔ عموماً عیدالاضحی کے موقع پر بچاکھچا چارہ اور دیگر گندگیاں مسلم محلہ جات میں پڑی نظر آتی ہیں اور کئی دنوں تک بلدیہ کی جانب سے عدم صفائی کے سبب بدبو و تعفن پھیلنے لگتا ہے ۔ اس طرح کی گندگیوں سے محلہ میں بیماری پھیل سکتی ہے ۔ اسی لئے ہمیں اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے پاک و صاف ماحول کی فراہمی یقینی بنانی چاہئیے ۔ جی ایچ ایم سی کے صفائی عملہ میں غیرمسلم طبقہ کی اکثریت جو کہ عموماً قربانی کے جانور سے نکالی گئی گندگی کی صفائی سے کتراتے ہیں ۔ اسی لئے یہ کچرا کئی دنوں تک کنڈیوں میں پڑا ہوا ہوتا ہے اور علاقہ میں بدبو و تعفن پھیلنے لگتی ہے ۔ بلدیہ کی جانب سے اس سال بھی عوام میں بڑے پلاسٹک بیاگس کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ وہ کچرا اور گندگی ان پلاسٹک کے بیاگس میں ڈال کر رکھ دیں تاکہ بلدی عملہ ان کے گھروں سے یہ بیاگ اٹھا لے جائیں ۔ علماء و مشایخین کے علاوہ ذمہ داران ملت اسلامیہ کو چاہئیے کہ وہ اس سلسلے میں باضابطہ مہم چلاتے ہوئے عوام کو اس بات کی تلقین کریں کہ وہ اپنے گھروں کے اطراف و اکناف کے ماحول کو پاکیزہ بنائے رکھنے کیلئے اور اپنے مذہبی فریضہ کی انجام دہی کے ذریعہ دیگر ابنائے وطن کو تکلیف نہ دینے کیلئے صاف ستھرے ماحول کو یقینی بنائیں ۔ بلدی عملہ کو بھی چاہئیے کہ وہ ہر گھر تک پلاسٹک کے تھیلے پہونچانے کے عمل کو یقینی بنائیں تاکہ بلدیہ کی اس مہم میں عوام کا بھرپور تعاون حاصل ہوسکے۔ دونوں شہروں کے مختلف مقامات بالخصوص پرانے شہر کے علاقوں میں ڈیویژن کی اساس پر اگر بلدیہ کی جانب سے پلاسٹک کے تھیلے فراہم کئے جاتے ہیں تو اس بات کو یقینی بنایا جاسکے گا اور تمام علاقوں میں صفائی ممکن ہوتی چلی جائے گی ۔ عوام چاہتے ہیں کہ ان کے علاقے صاف ستھرے رہیں اسی لئے وہ بلدیہ سے تعاون کیلئے تیار ہیں لیکن بلدی عملہ کی جانب سے کی جانے والی غفلت کے باعث عیدالاضحی کے گزرنے کے کئی دن تک بھی چارہ اور گندگی سڑکوں پر پڑی ہوتی ہے ۔ شہری علاقوں میں کچرے کی فوری نکاسی کے علاوہ نواحی علاقوں میں ہونے والی اجتماعی قربانیوں کے مقامات سے بھی یکساں طور پر اگر کچرے کی نکاسی کو یقینی بنایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں عیدالاضحی کے فوری بعد بھی شہر میں پاک و صاف ماحول فراہم کیا جاسکتا ہے ۔ شہریوں کو بھی چاہئیے کہ وہ جابجا کوڑا کرکٹ پھینکنے سے اجتناب کریں اور شہریوں میں احساس نفاست و پاکیزگی پیدا کرنے میں بااثر شہری بالخصوص علماء مشایخین ، سیاسی قائدین اور ذمہ داران ملت اسلامیہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT