Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / دین اسلام میں کسی قسم کی مداخلت ناقابل برداشت

دین اسلام میں کسی قسم کی مداخلت ناقابل برداشت

مدافعت کیلئے خواتین کو آگے آنے کا مشورہ، مفتی صادق محی الدین فہیم کا خطاب
حیدرآباد۔13ڈسمبر(سیاست نیوز) تنظیم بنت حرم کے زیر اہتمام مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دین بچائو دستور بچائو تحریک کے تحت خواتین اور طالبات کے لئے جلسہ عام کا اُردو مسکن حال خلوت میں انعقاد عمل میںآیا۔جلسہ کا آغازشیخ سہیل منصوری کی قرات کلام سے ہوا جبکہ محترمہ مہر فاطمہ طالبہ مدرسہ بنت حرم اور محترمہ نرگس بیگم نے بارگاہ رسالت مابؐ میں نعت کا نذرا نہ پیش کیا۔جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مفتی صادق محی الدین فہیم جامعہ نظامیہ نے کہاکہ دائرے اسلام میں داخل ہونے والوں کو آرام وآسائش کی فکر نہیں رہتی اور مذہب اسلام میں داخل ہونے والے آسانی کے ساتھ زندگی گذارسکتے ہیں کیوں کہ دنیافانی کے بعد ابدی زندگی کا تصور دائرے اسلام میں داخل ہونے والوں کے لئے اہمیت کاحامل ہوتا ہے۔مولانا نے کہاکہ آسانی سے زندگی گذارنے کے طریقہ سے متاثر ہوکر دنیا آج مذہب اسلام کی طرف مائل ہورہی ہے اور انہیںیقین ہے کہ کامیاب زندگی کے بعد کی آبدی زندگی میںبھی کامیابی کے لئے مذہب اسلام ہی واحد راستہ ہے۔ مولانا نے کہاکہ دشمنان اسلام دین اسلام کی سادگی اور آسان طرز زندگی سے ہی پریشان ہیں او ریہی وجہہ ہے کہ اسلام کے خلاف سازشوں کو تیز کرتے ہوئے مذہب اسلام او رمسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیںاو رنت نئے انداز میں اسلامی طرز زندگی میںرکاوٹیں کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مولانا نے کہاکہ دنیا کے کسی مذہب میںعورت کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جو مذہب اسلام نے دیا ہے۔ مذہب اسلام میںمرد اورعورت کو اس کے کام او رضرورت کی مناسبت سے دوحصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے جو کامیاب معاشرے کے قیام کے لئے ضروری ہے۔ مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم نے کہا مرد کو اپنے گھر کی کفالت کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے تو عورت کو امور خانہ داری کی ذمہ داریوں کیلئے علاوہ اولاد کی بہتر پرورش اور کامیاب معاشرے کے قیام کو یقینی بنانے کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اسلامی تعلیمات کو غلط انداز میںپیش کرتے ہوئے دین اوردستور میں رخنہ اندازی کی کوشش کرنے والوں کو آقائے دوجہاںؐکے لائے گئے دین اسلام سے قبل کے دنیوی حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ دور جہالت میں عورتوں اور بچیوں کو دنیاکی سب سے منحوس چیز سمجھا جاتا تھا اورنو مولود بچیوں کو زندہ درگور کیاجاتا تھا مگر جب آقائے دوجہاںؐ نے دین اسلام کے ذریعہ خواتین او ربچیوں کو معاشرے میںجینے کا نیا طریقہ سکھایا اور معاشرے کے اونچے مقام پر انہیں فائز کیا۔ مفتی صادق محی الدین فہیم نے کہاکہ فرقہ پرست طاقتیں دستور کے ذریعہ دین اسلام میںمداخلت کی کوشش کررہے ہیںکہ دین اسلام میں کسی بھی قسم کی مداخلت مسلمانوں کے لئے ناقابلِ برداشت عمل ہوگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ مسلمان ہر چیز برداشت کرسکتا ہے مگر دین اسلام میںمداخلت کو برداشت نہیں کرسکتا۔ مولانا نے مزیدکہاکہ مذہبی آزادی جمہوری ہندوستان کے دستور نے ہمیں دی ہے ۔ نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر ابنائے وطن کو مذہبی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کرنے کی دستور ہند اجازت نہیںدیتا۔ انہوں نے کہاکہ فرقہ پرست طاقتیں خواتین کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے علاوہ بے بنیاد الزامات او رمن گھڑت کہانیوں کے ذریعہ دین اسلام میںمداخلت کی کوشش کررہے ہیں جس کی مدافعت کیلئے ہماری خواتین کو آگے آنے کی ضرورت ہے او ردین اسلام میں خواتین کو دئے گئے اعلی مقام کے متعلق غیر مسلم خواتین کو معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔جنا ب اقبال احمد انجینئر نے کہاکہ دستور ہند کو اس خوبصورتی کے ساتھ تیار کیا گیا ہے کہ تکثیری سماج کے حکمران دیگر مذہب کے ماننے والوں کے مذہبی معاملات کے محافظ مقرر کئے گئے ہیں ۔ ہندوستان میں رہنے والے ہر مذہب کے اپنے مذہبی معاملات ہیںجس میںکسی بھی قسم کی مداخلت کرنے کی دستور ہند اجاز ت نہیں دیتا۔ یہاں تک کے تہذیب وتمدن میںبھی تبدیلی لانے کیلئے کسی قسم کا دبائو نہیںڈالاجاسکتا۔ تہذیب وتمدن کو بچانے کی ذمہ داری قوموں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی تہذیب وتمدن کی حقیقی ترجمانی کرتے ہوئے معاشرے کے دیگر طبقات تک اپنا پیغام پہنچائیں۔ مولاناسید قبول پاشاہ شطاری رکن مسلم پرسنل لا بورڈ‘ مولانا رحیم الدین انصاری رکن عاملہ مسلم پرسنل لاء بورڈ‘ مولانا سیدشاہ فضل اللہ حسینی موسوی قادری(سجادنشین درگاہ موسیٰ قادریؒ) ‘مولانا سید شاہ ابراہیم قادری فاروق پاشاہ زرین کلاء‘ مولانا سید شاہ ندیم اللہ حسینی جانشین درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینیؒ‘ مولانا سید حامد محمد قادری ‘ کے علاوہ محترمہ صبیحہ صدیقی اور محترمہ سیدہ عقیلہ خاموشی نے بھی خطاب کیا۔خواتین اور طالبات کی کثیر تعداد نے اس جلسہ عام میںشرکت کی ۔

TOPPOPULARRECENT