Monday , October 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / ’’دین‘‘ کا مفہوم اور محل استعمال

’’دین‘‘ کا مفہوم اور محل استعمال

اکثر لوگ ’’دین، اسلام‘‘ اور ’’شریعت‘‘ کے الفاظ کو مترادف کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح شریعت کے ساتھ طریقت، حقیقت اور معرفت کو بھی مترادف سمجھتے ہیں، لیکن حقیقتاً یہ ایک دوسرے کے مترادف نہیں، بلکہ ان کے مفہومات الگ الگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا فرمایا تو اس نے صرف تخلیق ہی نہیں کی، بلکہ ان مخلوقات کو ان کی طبیعت اور فطرت کے مطابق ہدایت بھی بخشی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اپنے بزرگ و برتر پروردگار کے نام کی تسبیح کرو، جس نے مخلوقات کا خاکہ بنایا، پھر ان کے نوک پلک سنوارے اور جس نے ان کے لئے مناسب چیزیں تجویز کیں، پھر انھیں ہدایت بخشی‘‘۔ (سورۃ الاعلیٰ۔۱تا۳)
یہ ہدایت مخلوقات میں سے ہر شے کو اس کی طبیعت اور فطرت کے مطابق الگ الگ ملی ہے، جو ان کے لئے جبلی ہدایت کہلاتی ہے۔ اس نے انسانوں کو پیدا ہوتے ہی ماں کے پستان کو چوس کر غذا حاصل کرنا سکھایا۔ پرندوں کو اُڑنا اور جگنو کو چمکنا سکھایا۔ مچھلی کو تیرنا، چرندوں کو چرنا اور درندوں کو پھاڑکھانا سکھایا، غرض اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کو اس کی فطرت کے مطابق ہدایت بخشی ہے۔ بنی نوع انسان کی ابتدائے آفرینش ہی ایک نبی سے کی۔ پھر حضرت آدم علیہ السلام کو خلیفہ بناکر زمین پر اُتارا تو اسی وقت ان کے واسطے سے ان کی نسل سے کہہ دیا کہ ’’میری طرف سے جب بھی تمہارے پاس کوئی ہدایت آئے تو جو بھی میری ہدایت کی پیروی کریں گے تو وہ خوف اور پریشانی سے بے نیاز ہوں گے‘‘۔ (سورۃ البقرہ۔۳۸)
انسان کو طبعی ہدایت کے علاوہ یہ دوسری ہدایت کا پیغام تھا، جو اس کو زندگی کے تمام شعبوں میں ملنا تھا، جو شعور انسانی کے مطابق زیادہ وسیع اور طبعی ہدایت سے بڑی ہدایت ہے۔ یہ ہدایت جبلی ہدایت کے علاوہ ہے، جس کی پیروی کی تاکید کی گئی۔ اسی دوسری ہدایت کو پاک میں ’’دین‘‘ کہا گیا ہے۔ دین کے لفظی معنی اگرچہ اطاعت اور جزا کے ہیں، لیکن قرآن حکیم نے لفظ ’’دین‘‘ کو کچھ اور معنی میں بھی استعمال کیا ہے۔ اس لفظ کے قرآنی استعمالات ملاحظہ فرمائیں:
(۱) جزا و سزا کے معنی میں: مثلًا مالک یوم الدین۔ جزا و سزا کے دن کا مالک (۲) مذہب کے معنی میں: مثلًا ان الدین عند اللّٰہ الْاسلام۔ اللہ کے نزدیک (مقبول) مذہب تو بس اسلام ہی ہے (۳) شریعت کے معنی میں: ’’مثلًا افغیر دین اللّٰہ یبغون۔ کیا یہ اللہ تعالی کی شریعت کے علاوہ کوئی اور شریعت چاہتے ہیں؟ (۴) ملکی قانون کے معنی میں: مثلاً ماکان لیأخذ أخاہ فی دین الملک۔ اس کو بادشاہ کے قانون کی رو سے یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ اپنے بھائی کو روک سکے (۵) اطاعت کے معنی میں: مثلاً ولہ الدین واصبًا۔ اور اسی کی اطاعت (ساری کائنات میں) ہمیشہ سے چل رہی ہے۔
ان قرآنی استعمالات کے علاوہ ’’دین‘‘ ایک اصطلاح ہے، جس سے مراد اللہ تعالی کی طرف سے دیئے گئے وہ عقائد، احکام و قوانین ہیں، جو تمام انبیاء کرام کی تعلیمات میں مشترک طورپر پائے جاتے ہیں اور ان عقائد اور احکام و قوانین میں کسی نبی کی کوئی تخصیص نہیں، انھیں کو دین کہا جاتا ہے اور اسی ’’دین‘‘ کا نام ’’اسلام‘‘ ہے اور یہ دین یکساں تمام انبیاء کرام کے ذریعہ آیا ہوا اللہ کا دین ہے۔
اللہ تعالی کے وہ احکام و قوانین جو حالات زمانہ کی مناسبت سے اور تمدنی تقاضوں کے مطابق اللہ تعالی کی طرف سے تبدیل ہوتے رہے ہیں ’’شریعت‘‘ کہلاتے ہیں، جو مختلف انبیاء کرام کی تعلیمات میں مختلف رہے ہیں۔ یہ شریعت متعلقہ نبی کی شریعت کہلاتی ہے اور اس کی نسبت نبی کی طرف ہی کی جاتی ہے۔
رسولوں کی شریعتیں حالات اور ضروریات کے مطابق تبدیل ہوتی رہی ہیں، مثلاً آدم علیہ السلام کی شریعت میں حقیقی بھائی اور بہن کا نکاح آپس میں جائز تھا، لیکن بعد کی شریعتوں میں یہ اجازت منسوخ ہو گئی اور اسے حرام قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح شریعت موسوی کے بہت سارے احکام شریعت عیسوی میں منسوخ کردیئے گئے اور اسی طرح شریعت عیسوی کے بعض احکام حالات کے مطابق شریعت محمدی میں تبدیل کردیئے گئے۔ شریعت کی یہ تبدیلی بھی ختم نبوت کی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردی گئی، چنانچہ اب شریعت محمدی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی، کیونکہ جب شعور انسانی، زندگی کی تمام حقیقتوں کا ادراک کرنے کے قابل ہو گیا اور حیات انسانی کے خد و خال مکمل طورپر ابھرکر سامنے آگئے تو نبوت بھی کردی گئی اور شریعت میں تبدیلی کا راستہ بھی روک دیا گیا، البتہ حالات اور ضروریات کی خاطر ’’قیاس‘‘ کے ذریعہ اجتہاد کا دروازہ قیامت تک کھلا رکھا گیا ہے۔ اب شریعت محمدی کے احکام و قوانین پر ’’قیاس‘‘ کرکے نئے احکام و قوانین وضع کئے جاسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئے احکام و قوانین کی بنیادیں شریعت محمدی کے بنیادی اصولوں پر ہی قائم ہوں گی، یعنی شریعت محمدی کے بنیادی اصولوں میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی۔
انبیاء کرام علیہم السلام کی تعداد ایک روایت کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش ہے، ان میں رسول تین سو پندرہ (۳۱۵) تھے، اس طرح ایک لاکھ تیئس ہزار چھ سو پچاس انبیاء کرام اپنے سابق رسول کی ہی کتاب اور شریعت پر رہے اور وحی الہی کی روشنی میں تجدید و احیائے دین کا کام کرتے رہے۔ رسولوں کے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اور ہم نے اپنے رسولوں کو بینات دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری، تاکہ لوگ منصفانہ طور سے اعتدال پر قائم رہیں‘‘ (سورۂ حدید۔۲۵) اکثر مفسرین نے میزان سے مراد شریعت لی ہے، جو لوگوں کو اعتدال پر قائم رکھتی ہے۔ باری تعالی کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ رسولوں کو تین چیزیں ضرور دی گئی تھیں: (۱) بینات: یعنی واضح دلائل و براہین، کھلی کھلی نشانیاں اور معجزات وغیرہ (۲) کتاب: جس میں احکام و قوانین، اوامر و نواہی، ترغیبات و تنبیہات شامل ہیں (۳) میزان: اس سے مراد احقر کے نزدیک احکام و قوانین کا وہ توازن و تناسب ہے، جو لوگوں کو اعتدال پر قائم رکھتا ہے۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT