Monday , July 24 2017
Home / مضامین / دین ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت

دین ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت

طلاق ثلاثہ …پرسنل لا بورڈ کے دلائل کتنے مستحکم
یوگی کی دل آزاریاں جاری

رشیدالدین
سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ پر سماعت کو صرف پانچ دن میں مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کردیا ہے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا کی زیر قیادت پانچ رکنی بنچ نے تعطیلات کے باوجود اس حساس مسئلہ کی سماعت کرتے ہوئے دستور اور انسانی مساوات کی رو سے طلاق ثلاثہ کے جواز کا جائزہ لیا۔ شاہ بانو کیس کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب سپریم کورٹ نے کسی شرعی مسئلہ پر ہنگامی سماعت کی ہو۔ عدالت نے طلاق ثلاثہ کے واقعات روکنے مرکز سے قانون سازی کے بارے میں سوال کیا۔ جس طرح شاہ بانو کیس کا فیصلہ شریعت کے خلاف آیا تھا ، اسی طرز پر طلاق ثلاثہ کے بارے میں بھی فیصلے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے ۔ سماعت کے دوران مرکز کا موقف اور عدالت کے سوالات سے یہ واضح اشارے مل رہے تھے کہ طلاق ثلاثہ کی برقراری آسان نہیں۔ پانچ روزہ سماعت پر نظر رکھنے والے ماہرین قانون کا احساس ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر مسلم تنظیموں کے دلائل عدلیہ پر اثر اندز نہیں ہوسکے۔ جب کبھی شریعت کے کسی مسئلہ پر سماعت کا موقع آئے تو تحت کی عدالتوں کے بعض ججس کو فیصلہ صادر کرنے سے قبل کسی مستند عالم یا مفتی سے رائے حاصل کرتے دیکھا گیا تاکہ مسلم پرسنل لا میں مداخلت نہ ہو۔ سپریم کورٹ میں بھی بنچ کی اعانت کیلئے پرسنل لا پر عبور رکھنے والی شخصیتوں کو مامور کیا جاسکتا تھا ۔ برخلاف اس کے سلمان خورشید کو بنچ کی اعانت کیلئے مقرر کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ عدالت کوئی بھی فیصلہ فریقین کے دلائل کی بنیاد پر کرے گی۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مقدمہ کے اہم فریق آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ نے جودلائل پیش کئے ، وہ کس قدر مضبوط اور اثر انگیز تھے ۔ بسا اوقات ایک بات کو درست ثابت کرنے کی کوشش میں غلط مثال پیش کردی جاتی ہے جو درخواست گزار کی رائے کی حیثیت سے عدالت کے ریکارڈ میں شامل ہوجاتی ہے۔ طلاق ثلاثہ کو درست ثابت کرنے کی کوشش میں پرسنل لا بورڈ کے وکیل کپل سبل نے غیر محسوس طریقہ سے ایودھیا تنازعہ پر سنگھ پریوار کے موقف کی تائید کردی ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ جس طرح ایودھیا میں رام کی جائے پیدائش ہندوؤں کا عقیدہ ہے ، جسے دستوری جواز کی بنیاد پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح طلاق ثلاثہ بھی مسلمانوں کے عقیدہ کا مسئلہ ہے۔ کپل سبل نے ایک طرح سے تسلیم کرلیا کہ ایودھیا میں رام کی جائے پیدائش عقیدہ کا معاملہ ہے ۔ عدالت میں کسی بھی وکیل کے ظاہر کردہ خیالات دراصل اس کے موکل کے ہو تے ہیں اور وکیل اپنے موکل کا ترجمان ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ عدالت کے ریکارڈ میں یہ جملے مسلم پرسنل لا بورڈ کی رائے کی حیثیت سے شامل ہوچکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو کپل سبل کی رائے سے اتفاق ہے؟ اگر نہیں تو پھر بورڈ نے اعتراض کیوں نہیں جتایا۔ ویسے بھی آج تک بورڈ کے کسی ترجمان نے کپل سبل کی رائے سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا۔

برخلاف اس کے کہ یہ کہہ کر کپل سبل کی مدافعت کی جارہی ہے کہ ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ کا فیصلہ عقیدہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹائٹل کی بنیاد پر ہوگا۔ اس طرح کی دلیل پیش کرنے والے شائد یہ بھول گئے کہ الہ آباد ہائیکورٹ نے عقیدہ کی بنیاد پر ہی ایودھیا کی اراضی کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ سنایا تھا ۔ عقیدہ سے وابستہ مسئلہ قرار دینے کیلئے کپل سبل نے رام کی جائے پیدائش کا حوالہ ہی کیوں دیا ؟ آخر اس کی ضرورت کیوں محسوس کی؟ کپل سبل کیا جانتے نہیں کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے سنگھ پریوار عقیدہ کو بنیاد بنا رہا ہے ۔ کپل سبل ایودھیا کے بجائے قبائیلیوں اور ہندوؤں کے مختلف گروپس کے ریتی رواج کا حوالہ دے سکتے تھے ، جنہیں دستوری ضمانت حاصل ہے۔ کپل سبل کیا بھول گئے کہ وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل ہیں جس کی بابری مسجد کمیٹی ایودھیا تنازعہ میں فریق ہیں۔ طلاق ثلاثہ کو عقیدہ کا مسئلہ ثابت کرنے رام کے جائے پیدائش کو بطور دلیل پیش کر نے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ بورڈ کے وکیل نے ہندوتوا طاقتوں کے موقف کو مستحکم کرنے کا کام کیا ہے اور اس طرح بابری مسجد کاز کو نقصان پہنچا۔ طلاق جو بذات خود شریعت میں ناپسندیدہ عمل ہے ، اگر اس بارے میں عدالت کوئی فیصلہ کرتی ہے تب بھی شریعت  اسلامی پر حرف نہیں آسکتا جبکہ مسجد کا مسئلہ ہندوستان میں مسلمانوں کے عزت نفس کا مسئلہ ہے اور شرعی اعتبار سے کوئی بھی مسجد تاقیامت مسجد ہی برقرار رہتی ہے۔ عقیدہ سے جڑا ہوا مسئلہ تو حقیقت میں بابری مسجد کا ہے ۔ کہیں اس طرح کی رائے کا اظہار مسجد پر مسلمانوں کی دعویداری کمزور کرنے کی سازش تو نہیں ، جو کچھ بھی ہو سابق وزیر قانون نے پرسنل لا بورڈ کے ساتھ بد خدمتی کی ہے۔ شاہی امام احمد بخاری نے پرسنل لا بورڈ کے ایک عہدیدار اور بعض ارکان پر ایودھیا تنازعہ کے سلسلہ میں  سنگھ پریوار سے ملی بھگت کا الزام عائد کیا ہے ۔ ان کا کہناہے کہ کپل سبل کے ذریعہ جان بوجھ کر رام کے جائے پیدائش کے مسئلہ کو اٹھایا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ شریعت کی تشریح اور توضیح کیلئے پرسنل لابورڈ  کو ملک بھر میں کوئی قابل مسلم وکیل دستیاب نہیں ہوا ۔ سپریم کورٹ کے بعض ریٹائرڈ ججس مسلمان ہیں اور ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس بقید حیات ہے۔ کیا بورڈ نے وکیل کے انتخاب سے قبل ان شخصیتوں سے رائے حاصل کی تھی ؟ اگر 15 تا 20 کروڑ مسلمانوں میں ایک بھی قابل وکیل نہیں ہے تو یہ لمحہ فکر ہی نہیں بلکہ آگے آنے والے حالات کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہے ۔ سپریم کورٹ میں شریعت کی تائید اور مخالفت دونوں طرف غیر مسلم وکلاء تھے اور عدالت کو شریعت سمجھانے کیلئے ہمیں غیر مسلم وکلاء کا سہارا لینا پڑا۔ سپریم کورٹ ہو یا ہائی کورٹ نامور وکلاء تو محض فیس کیلئے مقدمہ لڑتے ہیں اور انہیں کاز سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ یہی کپل سبل ہوسکتا ہے آئندہ کسی مقدمہ میں مخالف شریعت دلائل پیش کرنے کیلئے آمادہ ہوجائیں۔ مسلمانوں نے ہر شعبہ میں ماہرین کو تیار کیا لیکن قانون داں تیار کرنے میں کوتاہی کی جس کے نتیجہ میں غیروں پر انحصار کرنا پڑا ہے ۔ کپل سبل جو سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سرکردہ قائد ہیں۔ اس مقدمہ میں ان کے دلائل سے حقیقی ذہنیت آشکار ہوچکی ہے اور انہوں نے پرسنل لا بورڈ کے بجائے سنگھ پریوار کے موقف کو مستحکم کیا۔ آخر کس نے ان کا انتخاب کیا ۔ کیا کپل سبل کو مقرر کرنے کا فیصلہ بورڈ کا متفقہ تھا یا بعض ارکان نے اپنی مرضی کو بورڈ پر مسلط کردیا ؟ شاہی امام نے جن نکات کو اٹھایا ہے اس پر پرسنل لا بورڈ کو وضاحت کرنی چاہئے ۔ کپل سبل کے متنازعہ ریمارکس پر بورڈ کی خاموشی سے کئی شبہات جنم لے رہے ہیں ۔

مسلم پرسنل بورڈ کے جن ذمہ داروں نے انہیں شریعت کے دفاع کیلئے میدان میں اتارا تھا ، ان کا حال اس کھلاڑی کی طرح ہوگیا جسے زائد رنز کی امید سے میدان بھیجا گیا لیکن وہ صفر پر ہی آوٹ ہوگئے۔ پرسنل لا بورڈ کے دلائل کو عدالت میں کس حد تک قبول کیا ، اس کا اندازہ فیصلہ سے ہوجائے گا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بورڈ بااثر اور مخلص اکابرین سے خالی ہوچکا ہے۔ اب تو موسم کے اعتبار سے اجلاس کے مقام کا تعین کیاجاتا ہے ۔ مولانا طیب قاسمی ، مولانا ابوالحسن ندوی ، مولانا عبدالکریم پاریکھ ، مولانا منت اللہ رحمانی ، مولانا ابواللیث اصلاحی، مولانا محمد مسلم، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی اور مولانا رحیم قریشی جیسے رہنماؤں کی کمی نے بورڈ کی اہمیت اور احترام کو کم کردیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے جب شاہ بانو کیس میں شریعت کے خلاف فیصلہ سنایا تو مولانا منت اللہ رحمانی اور مولانا مجاہد الاسلام قاسمی نے ملک میں گھوم کر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کیا ۔ آخر کار حکومت کو جھکنا پڑا اور راجیو گاندھی حکومت نے شریعت کے حق میں قانون سازی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بے اثر کردیا ۔ آج بھی ہمیں اسی جذبہ کی ضرورت ہے ۔ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ مخالف شریعت آتا ہے تو کیا موجودہ قیادت مودی حکومت کو قانون سازی سے روک پائے گی۔ ابھی ایک تنازعہ ختم نہیں ہوا تھا کہ یکساں سیول کوڈ پر لا کمیشن کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ لا کمیشن نے اس مسئلہ پر حکومت کو اپنی رائے دینے کیلئے طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کرنے کی پالیسی بنائی ہے تاکہ فیصلہ کی رو سے یکساں سیول کوڈ پر رائے دی جاسکے ۔ وقت آچکا ہے کہ شریعت کے بارے میں نوجوان نسل کا شعور بیدار کیا جائے۔ مسلم پرسنل لا کے بارے میں شعور بیداری کا کام اگر کسی جماعت نے سنجیدگی اور بھرپور انداز میں انجام دیا تو وہ جماعت اسلامی ہے جس نے ملک بھر میں مہم چلائی اور غیر مسلم دانشوروں کو بھی اس مہم سے جوڑتے ہوئے اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ۔ ایک طرف شریعت پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف یوگی ادتیہ ناتھ نے مسلمانوں میں پھوٹ پیدا کرنے کیلئے نت نئی شر انگیزیوں کو جاری رکھا ہے ۔ اگرچہ یوگی اترپردیش کے چیف منسٹر کی حیثیت سے نئے ہیں لیکن وہ سنگھ پریوار کے اپنے تجربہ کا مسلمانوں پر بھرپور استعمال کر رہے ہیں ۔ اہم شخصیتوں کی یوم پیدائش کی تعطیلات کو منسوخ کرنے کے بہانے یوگی نے مسلمانوں کی دلآزاری کا آغاز کیا ۔ انہوں نے عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعطیل کو منسوخ کرتے ہوئے ملک کی دوسری بڑی اکثریت کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ ابھی یہ معاملہ تھما نہیں تھا کہ یوگی نے مسلمانوں پر دوسرا وار کیا ۔ یوگی حکومت میں شامل واحد مسلم وزیر کی سفارش پر حضرت علیؓ کے یوم پیدائش پر عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اعلان کا مقصد مسلمانوں میں مسلک اور فرقہ کی بنیاد پر اختلافات کو ہوا دینا ہے۔ حضرت علیؓ کی ولادت باسعادت پر تعطیل کا اعلان یقیناً خوشی کی بات ہے لیکن پیغمبر اسلام کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے صحابی اور خلیفہ سے عقیدت کا اظہار کہاں تک درست ہے ۔ مسلمانوں ہر فرقے کے پاس پیغمبر اسلام کی اہمیت دوسروں پر مقدم ہے اور یوگی حکومت کے اس فیصلہ سے کوئی بھی فرقہ خوش نہیں ہوگا۔ علامہ اقبال نے کچھ اس طرح نصیحت کی ہے  ؎
دین ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT