Saturday , July 29 2017
Home / شہر کی خبریں / دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے اختلافات دُور کرنا ضروری

دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے اختلافات دُور کرنا ضروری

مسائل کی یکسوئی کا واحد راستہ مذاکرات ،پرامن بقائے باہم کیلئے تمام ممالک کا اتحاد ناگزیر ، روحانی پیشوا دلائی لاما کا بیان
حیدرآباد۔ 12 فروری (سیاست نیوز) دلائی لاما نے احساس ظاہر کیا کہ دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ اور دیگر ممالک اپنے اختلافات کو دُور کرنے کیلئے مذاکرات کو ترجیح دیں۔ دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے تمام اقوام کا متحد ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اتحاد و یگانگت کے جذبہ کو فروغ دیں۔ تبت کے روحانی پیشوا دلائی لاما نے کہا کہ میں یوروپی یونین کے حامیوں میں سے ایک ہوں۔ میں نے اکثر اس بات پر زور دیا ہے کہ آفریقی یونین میں اتحاد کو فروغ دیا جانا چاہئے اور یہی بات لاطینی امریکہ کیلئے بھی صادق آتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ایک ایسی یونین کو فروغ دینا چاہئے جس میں تمام ممالک امن و اتحاد کے ساتھ ترقی کرسکیں۔ بسااوقات مجھے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ امریکہ کے نئے صدر (ڈونالڈ ٹرمپ) کے بارے میں دیکھا اور سنا ہوگا کہ ایک دیوار کھڑی کررہے ہیں اور میرا احساس ہے کہ میکسیکو کو بھی امریکہ کا حصہ ہونا چاہئے۔ یہاں پر اخلاقیات و اقدار اور نیک تمناؤں کے عنوان سے منعقدہ سمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے تبت کے بدھسٹ روحانی رہنما نے کہا کہ لاطینی امریکہ بعض یونین اور وقتی طور پر ایشیا کے دو طاقتور ممالک چین اور ہندوستان کے علاوہ جاپان، بنگلہ دیش کو بھی اپنی ایک یونین بنانی چاہئے۔ درحقیقت ہمیں ایک عالمی یونین بنانے کی ضرورت ہے جو ساری دنیا کو فوج سے پاک کرسکے۔ دنیا میں امن کی ضرورت ہے تو فوج کیلئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔ ساری دنیا کو فوج سے پاک بنانے کے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ہمیں مذاکرات کے جذبہ کو فروغ دینے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ یہی عملی راہ ہے۔ مذاکرات کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے۔ جب کبھی مفاد پرستی کے اختلافات پیدا ہوتے ہیں یا مختلف نظریات حائل ہوتے ہیں تو ایسے میں بات چیت ہی واحد حل ہے۔ مذاکرات کے ذریعہ ہی ہم اختلافات کو دُور کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ آیئے ہم 21 ویں صدی کو ’’مذاکرات کی صدی‘‘ بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان ساری دنیا کیلئے ایک شاندار مثال ہے جس کے پاس شاندار روایات اور قیمتی تہذیبی ورثہ ہے جہاں تمام بڑے مذاہب باہمی احترام کے ساتھ مل جل کر رہ رہے ہیں۔ اگرچیکہ بعض اوقات کچھ مسائل پیدا ہوتے ہیں، یہ قابل فہم بات ہے۔ دلائی لاما نے کہا کہ ہندوستانی نفسیات کا جب عصری نفسیات کے دور سے تقابل کیا جاتا ہے تو ہندوستانی نفسیات سب سے بالاتر نظر آتے ہیں۔ جدید نفسیات کا ہندوستانی نفسیات سے تقابل کیا جائے تو یہ کینڈر گارٹن (کے جی) سطح پر نظر آتے ہیں۔ اگرچیکہ ان کا احساس ہے کہ اب جدید ہندوستان بھی مغربیت نواز بن گیا ہے، لہذا اب وقت آگیا ہے کہ نوجوان ہندوستانی نسل کو چاہئے کہ وہ اپنی ہزاروں سال پرانی ہندوستانی تعلیم اور علم کی جانب زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز کریں۔ قبل ازیں دلائی لاما آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے گورنر ای ایس ایل نرسمہن، ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ محمد محمود علی، ریاستی آئی ٹی وزیر کے تارک راما راؤ اور دیگر شخصیتوں نے یہاں ’’دلائی لاما مرکز برائے اقدار اور اخلاقیات ‘‘ کی افتتاحی تقریب میں حصہ لیا۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے آئی ٹیکس کے مقام پر مذکورہ مرکز کے قیام کیلئے 5 کروڑ روپئے فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ ان کی حکومت عوام میں اخلاقیات اور اقدار کے پیام کو پھیلانے کرنے کیلئے ہر ممکن مدد کرے گی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کے تارک راما راؤ نے کہا کہ دلائی لاما نے سماج کے اندر روحانیت، امن اور اتحاد کا پیغام عام کرنے کیلئے انتھک خدمات انجام دی ہیں، اس کے عوض انہیں مختلف یونیورسٹیوں میں کئی ڈگریاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ ہمارے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ حیدرآباد میں دلائی لاما سنٹر کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT