Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / دیوالی پر ملنے والے تحائف پر ٹیکس نہیں لگے گا!ا

دیوالی پر ملنے والے تحائف پر ٹیکس نہیں لگے گا!ا

حیدرآباد۔24اکٹوبر(سیاست نیوز) افراد خاندان کی جانب سے دیئے جانے والے تحائف یا نقد رقومات حصول کنندہ کیلئے محصولات سے مستثنی ہوتے ہیں۔ والدین ‘ اہلیہ ‘ سسرال یا بھائی بہنوں کے درمیان تحفہ تحائف یا نقدی کا تبادلہ محصولات سے مستثنی ہوتا ہے اور حاصل کرنے والے کو اس پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جاسکتا۔ ماہر معاشیات و نظام محصولات مسٹر اریچیت گپتا کے بموجب افراد خاندان کی جانب سے دیئے جانے تحفے خواہ کتنے ہی قیمتی کیوں نہ ہوں ان پر ٹیکس نہیں لگتا بلکہ دوست واحباب کی جانب سے دیئے جانے والے تحائف کی حد مقرر ہے اور معاشی سال کے دوران صرف 50000روپئے تک کے تحائف وصول کئے جا سکتے ہیں اگر اس سے ایک ہزار روپئے زائد کے تحائف بھی وصول کئے جائیں تو تحائف کی شکل میں وصول کی گئی اشیاء یا نقدی کی مکمل مالیت پر ٹیکس عائد ہوگا۔ ٹیکس سے مستثنی تحائف میں 50000تک کی حد مقرر ہے لیکن اس کا اطلاق قریبی افراد خاندان پر نہیں ہوتا بلکہ انہیں آپس میں تحائف کے تبادلہ میں کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر وصول کئے جانے والے تحائف پر بھی وصول کنندہ کو ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ تحفہ ایک مخصوص موقع پر انہیں حاصل ہوا ہے۔ میراث و وصیت کے ذریعہ حاصل ہونے والے تحفہ خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہوں ان پر بھی کسی قسم کا ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا بلکہ ٹیکس دہندہ کی موت کی صورت میں اس کی میراث کی تقسیم سے استفادہ کرنے والوں کو بھی ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت نہیںہے خواہ وصیت موجود نہیں ہو۔مقامی انتظامیہ سے حاصل ہونے والے تحائف بھی ٹیکس سے مستثنی ہوتے ہیں۔ مالی و محصولات کے نظام کو سمجھتے ہوئے بہ آسانی ٹیکس بچایا جا سکتا ہے اور ایسی اشیاء پر جو تحفہ میں حاصل ہوئی ہیں ان پر ٹیکس کی ادائیگی سے محفوظ رہنے کیلئے معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔عزیز و اقارب کے علاوہ دوست و احباب کی جانب سے وصول ہونے والے تحائف کی حد 50000کو تجاوز کرنے سے بچنے کیلئے ان تحائف کو مالی سال کے مکمل ہونے کے بعد حاصل کیا جاسکتا ہے تاکہ ان پر ٹیکس عائد ہونے سے بچا جا سکے۔اسی طرح شئیر کے ذریعہ حاصل ہونے والے بونس یا شیئرس بطور تحفہ دیئے جانے کے بھی علحدہ اصول مرتب ہیں جن سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے بھاری ٹیکس کی ادائیگی سے محفوظ رہا جا سکتا ہے اور اس کا راست فائدہ ٹیکس دہندہ کو ہی ہوتا ہے اور یہ ٹیکس دہندہ کا حق ہے جس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT