Saturday , June 24 2017
Home / شہر کی خبریں / دیوبند کا نام تبدیل کرکے دیوورند کرنے کی کوشش

دیوبند کا نام تبدیل کرکے دیوورند کرنے کی کوشش

یو پی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی کی کامیابی سے فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند، مسلمانوں کے خلاف سازشیں گہری

حیدرآباد /17 مارچ ( سیاست نیوز ) اترپردیش میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد حکومت سازی کا عمل ابھی شروع ہی نہیں ہوا کہ فرقہ پرستوں کی شرانگیزیوں نے کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے ۔ یو پی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی امیدواروں کی کامیابی پر اٹھنے والے کئی سوال کے درمیان دیوبند سے نومنتخب بی جے پی رکن اسمبلی برجیش سنگھ نے کہا کہ ریاست میں نئی حکومت کا حلف لینے کے ساتھ ہی دیوبند کا نام تبدیل کرکے دیوورند کردیا جائے گا ۔ برجیش سنگھ نے کہا کہ دیوبند کو اس کی تاریخی وابستگی کیلئے جانا جانا چاہئے ۔ دیوبند دراصل دیوورند ہے جو مہا بھارت سے وابستہ ہے ۔ یہاں کے اسلامی مدرسہ دارالعلوم دیوبند سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لکھنو میں اپنی کامیابی کا جشن منانے والے برجیش سنگھ نے کہا کہ دیوبند کے نام کی مجوزہ تبدیلی کے ذریعہ اس کی تاریخی اہمیت کو بحال کرنا ہے ۔ اس سلسلہ میں وہ حکومت کے قیام کے بعد ریاستی اسمبلی میں اپنی پہلی تجویز کو پیش کریں گے ۔ یو پی کے انتخابات میں دیوبند اسمبلی حلقہ کا نتیجہ سب سے پہلے آیا تھا ۔ جہاں برجیش سنگھ نے بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار ماجد علی کو 26,355 ووٹوں سے شکست دی تھی ۔ نومنتخب رکن اسمبلی خود اس بات پر بضد ہیکہ دیوبند کا نام تبدیل کردیا جائے ۔ ماضی میں بجرنگ دل جیسے کئی ہندوتوا گروپس نے دیوبند کو دیوورند کردینے کا مسئلہ اٹھایا تھا لیکن اس مرتبہ ایک رکن اسمبلی نے پہلی مرتبہ نام تبدیل کردینے کی تجویز رکھی ہے۔ برجیش سنگھ کا کہنا ہے کہ دیوبند ہندوؤں کیلئے ایک مقدس مقام ہے کیونکہ اس کی تاریخ مہابھارت سے وابستہ ہے ۔ پانڈوں نے اس وقت دیوبند کا دورہ کیا تھا جب وہ جلاوطن ہوگئے تھے اور بھیس بدل کر مقیم تھے ۔ ان کے اس ٹاون میں قیام کی وجہ سے ہی یہاں مشہور مندر کی بنیاد رکھی گئی تھی ۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ دیوبند کی مہابھارت سے منسلک ساری تاریخ کو روشناس کرنا چاہتے ہیں اور عوامی یادداشت کو تازہ کرکے اس علاقہ کو تاریخی مقام کا درجہ دینا چاہتے ہیں ۔ دیوبند کی دارالعلوم دیوبند سے پہچان ہونا غیرمنصفانہ بات ہے۔ دارالعلوم دیوبند کی موجودگی سے دیوبند کی تاریخی اہمیت ختم نہیں ہوگی ۔ برجیش سنگھ اپنی دلیل اور اس حجت کو پوری شدت سے پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ان کا ماننا ہے کہ کئی تاریخی عمارتیں موجود ہیں رنکھنڈی، جکھوالا اور جاروڈا پانڈا جیسے مواضعات میں تاریخی اور ہندوؤں کے اباواجداد کی نشانیاں دستیاب ہوتی ہیں ۔ اس سے مہابھارت کے دور کی یاد تازہ ہوتی ہے ۔ دیوبند کا نام تبدیل کرنے کی یہ نئی تجویز نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی کئی لوگوں نے اس مسئلہ کو اٹھایا ہے ۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ ان مواضعات میں کسی طرح صدیوں پرانے ڈھانچے پائے جاتے ہیں ۔ برجیش سنگھ بی جے پی کے پہلے امیدوار ہیں جو 21 سال میں پہلی بار اس حلقہ سے منتخب ہوئے ہیں ۔ دیوبند سہارنپور کے پانچ اسمبلی حلقوں میں سے ایک ہے جہاں زعفرانی پارٹی نے زبردست اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے ۔ دیوبند کے 30 فیصد مسلم رائے دہندوں کا روایتی موقف ختم کردیا گیا ہے ۔ برجیش سنگھ نے کہا کہ میں دارالعلوم دیوبند کے خلاف نہیں ہوں جو دیگر قدیم مذہبی سنسکرت اسکولوں کی طرح ہے ۔ اس وقت وہ دیوبند ٹاون میں صرف اسلامی ادارہ کی علامت کے طور پر موجود ہے جبکہ اس ٹاون میں تاریخی دیوورند کی نشانی ملتی ہے ۔ جو دارالعلوم سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس ٹاون کی شناخت بحال ہوجائے ۔ تاریخ دیکھیں تو اس کا نام دیوورند ہی ملتا ہے۔ بی جے پی کے قائدین نے یو پی میں پارنی کی کامیابی کے بعد کئی پوسٹرس اور ہورڈنگس لگائے ہیں جس میں دیوبند کو دیوورند ہی لکھا جارہا ہے ۔ بی جے پی رکن اسمبلی کی اس کوشش کی مخالفت ہوسکتی ہے۔ ماضی میں بھی بی جے پی ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی نے مختلف مقامات پر تاریخی مسلم ناموں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT