Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / دیگر ریاستوں کے باشندوں میں خوف ؟

دیگر ریاستوں کے باشندوں میں خوف ؟

حیدرآباد۔ 25 ۔ ڈسمبر ( سیاست نیوز) شہر میں رہنے والے کرناٹک ، مہاراشٹرا ، بہار ، اترپردیش ، مغربی بنگال کے علاوہ دیگر ریاستوں کے شہریوں میں اچانک خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے۔ اسدالدین اویسی کی جانب سے حیدرآباد ، حیدرآبادیوں کا قرار دیئے جانے کے بعد بیرونی ریاست سے تعلق رکھنے والے شہریوں میں کشمکش پیدا ہوچکی ہے اور وہ اس صورتحال سے خائف نظر آرہے ہیں چونکہ مہاراشٹرا میں شیوسینا نے بھی اپنی بقاء کیلئے ’’می ممبئی کر‘‘ کے نعرہ کے ساتھ ممبئی کو ممبئی واسیوں کا قرار دیتے ہوئے بہار اور اترپردیش کے مکینوں پر حملے شروع کردیئے تھے۔ شیوسینا کے اسی اقدام کے بعد شیوسینا کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی تھی اور اب حالیہ عرصہ میں شیوسینا سے علحدگی اختیار کرتے ہوئے شروع کردہ پارٹی ایم این ایس نے بھی اسی طرح کے نعروں کے ذریعہ ہندوستانی عوام کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ایم این ایس کو اس مقصد میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی مگر حیدرآباد میں یہ نعرہ حیدرآباد کے حالات کیلئے مناسب تصور نہیں کیا جارہا ہے ۔ پرانے شہر کے علاقہ چندرائن گٹہ کی ایک مسجد میں خدمات انجام دینے والے امام جو اترپردیش کے شہری ہیں، نے اس ریمارک پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اچانک حیدرآباد میں اس طرح کے خیالات کو فروغ دینا انہیں اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے خطرہ محسوس ہونے لگا ہے ، اسی طرح بہار سے تعلق رکھنے والے ایک مدرسہ کے ذمہ دار نے بھی حیدرآباد ، حیدرآبادیوں کا قرار دیئے جانے پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہار انتخابات سے قبل ہم سے گفت و شنید اور مشاورت کرنے والے آج ہمیں غیر کہہ رہے ہیں۔ کرناٹک و مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی تعداد پرانے شہر کے کئی علاقوں میں آباد ہے لیکن صدر مجلس کے ریمارک کے بعد ایسا محسوس ہورہا ہے کہ علاقہ واری خطوط پرعوام کو منقسم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے  جس کے راست اثرات غیر حیدرآبادی شہریوں پر مرتب ہوں گے جو کہ بغرض معاش و قیام شہر حیدرآباد کا رخ کئے ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT