Thursday , September 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / دیگلور میں بینکوں کے روبرو ہزاروں کسانوں کا احتجاج

دیگلور میں بینکوں کے روبرو ہزاروں کسانوں کا احتجاج

ٹوکن لون کی اجرائی اور فصل بیمہ کے خصوصی کاؤنٹرز کے تیقن پر ایس بی آئی کا تالا کھولا گیا
دیگلور۔ /26 جولائی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تقریباً ایک ماہ سے حکومت نے کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے اورپٹہ پاس بک ( سات بارہ نمونہ ) نیل (Nil) کرنے سے متعلق اعلانات تو حکومت کررہی ہے لیکن حقیقت میں متعلقہ قرضدار کسانوں کو کوئی راحت نہ ملنے سے ہزار ہا کسان، دیہاتی کاشتکار زمین دار سڑکوں پر نکل آرہے ہیں۔ جبکہ حکومت نے تمام کسانوں، زمین داروں کو فی کس فی الفور دس ہزار روپئے بطور ٹوکن لون دینے اور فصل کے لحاظ سے انشورنس کی قسط کی رقم نقد تمام قومیائے بینک، ریجنل اور ضلعی کوآپریٹیو سنٹرل بینکوں کو قبول کرنے سے متعلق اعلامیہ جاری کرنے کے باوجود بینک حکام و منیجرس ٹوکن لون دینے اور بیمہ کی رقم قسط قبول کرنے سے مسلسل ٹال مٹول کرنے پر یہاں کی ایک ذمہ داری دیہی تنظیم و شوا پریوار، کے صدر ایڈوکیٹ کیلاش ایزگے کی سرکردگی میں ہزاروں کسانوں نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی دونوں شاخوں پر، مہاراشٹرابینک، مہاراشٹرا گرامینا بینک، ناندیڑ ڈسٹرکٹ سنٹرل کوآپریٹیو بینکوں کے روبرو منظم طور پر احتجاج کیا۔ یہاں یہ ذکر ضروری ہوتا کہ وشوا پریوار تنظیم کی جانب سے صدر ایڈوکیٹ کیلاش ایزگے نے قبل ازیں 18جولائی کو ضلع کلکٹر ناندیڑ، ڈپٹی کلکٹر، آر ڈی او، دیگلور، تحصیلدار، دیگلور سے باقاعدہ طور پر دفاتر میں بالمشافہ حکومت کے اعلامیہ کی بینک حکام اور منیجرس قبول نہ کرتے ہوئے کسانوں کو بینکوں سے واپس کردینے کی شکایت درج کروائی جس پر ضلع کلکٹر نے تمام تحصیلداروں کو احکامات جاری کئے تھے کہ جو بینک منیجر ٹوکن لون دینے سے راحت دینے سے انکار کررہے ہیں اور فصل کے انشورنس کی قسط قبول نہ کریں ان کے خلاف پولیس میں ایف ائی آر درج کروائیں۔ بینک انکار کرنے پر آج اسٹیٹ بینک آف انڈیا ماکیٹ یارڈ برانچ دیگلور کو کسانوں نے بینک بند کرواتے ہوئے تمام گاہکوں کو باہر نکال کر تالا ڈال دیا۔ بعد ازاں بینک حکام و منیجرس نے دبکی نامہ لکھتے ہوئے پولیس کو طلب کرلیا۔ انچارج پولیس انسپکٹر مسٹر پرلہاد گیتے نے منجر سے صاف کہہ دیا کہ وہ حکومت کے واضح احکامات کی روشنی میں کام کرتے ہوئے فی الفور ٹوکن لون جاری کریں اور فصل بیمہ کی رقم علحدہ علحدہ کاؤنٹرس خصوصی طور پر لگاکر رقم لے جائے جس پر اسٹیٹ بینک آف انڈیا دیگلور کے منیجر نے کل سے لون رقم کی تقسیم اور بیمہ قسط کی وصولی کا واضح طور پر تیقن دینے کے بعد ایڈوکیٹ مسٹر کیلاش ایزگے صدر نے بینک کا تالا کھولا، یہاں یہ ذکر ضروری ہوتا کہ آن لائین مراکز پرائیویٹ دکانداروں کی طرح کسانوں سے فی کس دیڑھ تا دو سو روپئے غیر واجبی فیس وصول کررہے ہیں جبکہ حکومت مہاراشٹرا نے انہیں اس امر میں سخت انتباہ بھی دیا ہے جبکہ بینکوں میں بیمہ کی رقم و فارم مفت قبول کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں مسٹر سبھا سابنے ( ایم ایل اے ) دیگلور نے ’سیاست‘ کو ممبئی سے معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ وہ فصل بیمہ کی رقم قبولی کی آخری تاریخ 31جولائی ہے اسے بڑھانے کیلئے کوشاں ہیں۔ تاہم مرکزی حکومت کو اس کا اختیار ہے۔ اس احتجاج میں راہول دیشمکھ، خالد پٹیل، جاوید احمد، حبیب الرحمن، سید باسط، پرشانت پٹیل، راجورکر، امول پٹیل وغیرہ نے حصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT