Monday , August 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / دیگلور میں مہاتما گاندھی ضامن روزگار اسکیم بدعنوانیوں کی نذر

دیگلور میں مہاتما گاندھی ضامن روزگار اسکیم بدعنوانیوں کی نذر

دیگلور۔26 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) دیگلور تعلقہ کے مواضعات جھڑی ‘ پینڈپلیمیں مرکزی حکومت کے تحت جاری مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گیارنٹی ایکٹ اسکیم کی تو دھجیاں اُڑا دی گئیں ہیں اور 2011 تا 2013ء کے دوران لاکھوں روپیوں کے بٹواڑہ کا گھپلا بدعنوانیوں کا سنگین معاملہ اُجاگر ہوگیا ہے ۔ اس معاملہ میں دیگلور عدالت نے سابق بی ڈی او سمیت کُل ملاکر دس ملازمین کے خاف تیرہ مختلف آئی پی سی کی دفعات کے تحت معاملہ فی الفور درج کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ۔ اس سنگین معاملہ کا عدالت نے سخت نوٹ لیتیہ وئیدیگلور عدالت منصفی کے معزز جج مسٹر وسیم ملا نے شنوائی کے دوران متعلقہ محکمہ پنچایت ‘ پولیس اور ان کے وکیل کے ذریعہ داخل کردہ جوابات ‘گواہ ‘ثبوت کے بعد فیصلہ دیا ہے کہ پولیس کو آئی پی سی کی 156/3 کے تحت معاملہ درج کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔ ’’ کیا ہے یہ معاملہ !!‘‘ بتادیں کہ مرکزی حکومت نے دیہی بیروزگاری دور کرنے دیہاتوں کے اطراف تالاب ‘ سڑک ‘ بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے مختلف اسکیمات لاگو کر کے مزدوروں کے ذریعہ ہی سے ’’ ہر ہاتھ‘‘ کو کام ملے اور غریب مزدور پیشہ خادنانوں کی بھوک مری نہ ہو ‘ اس کیلئے دیگلور تعلقہ میں بھی 2011ء میں یہ اسکیم (MNGEA) لاگو کی گئی کے تحت پنچایت سمیتی کو لاکھوں روپئے مرکزی حکومت نے پوسٹ آفسوں کے ذریعہ جاری کی تھی ۔ مواضعات جھری ‘ پینڈیلی کی ترقی کیلئے بھی لاکھوں روپئے آئے لیکن اُس وقت ( بی ڈی او) سمیت سابق سرپنچ ‘ گرام سیوک ‘ روزگار سیوک ‘ پوسٹ ماسٹر ‘ انجنیئر ‘ الیکشن آفیسر ‘ اے او اکاؤنٹنٹ اور دیگر عہدیداران مجاز کی ملی بھگت سے اس اسکیم کے تقریباً 25لاکھ روپیوں کی بندربانٹ کر لاکھوں روپئے ہضم کرلئے ہیں ۔ جن مزدوروں سے کام لینا تھا ‘ کھدوائیاں کرنا وغیرہ شامل کام تھے وہاں وہاں جے سی بی مشینیں لگواکر کام کروالئے گئے ۔ مگر حکومت کو فرضی حاضری رجسٹر ( مسٹر رول ) ‘ فرضی فوت شدہ لوگوں کے جاب کارڈ بھی تیار کروالئے گئے ۔ اس طرح ہر ماہ لاکھوں روپئے بٹورنے کا الزام لگایا گیا ہے ۔ حق معلومات جانچ سمیتی علاقہ مراٹھواڑہ کے صدر ونود بوجے نے گذشتہ دس ماہ سے اس معاملہ کو لیکر ضلع پریشد ‘ ضلع کلکٹریٹ ‘ پوسٹ آفس کے اعلیٰ حکام ‘ کمشنریٹ محصول تک پروف کے ساتھ درخواستیں داخل کیں لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا ۔ چنانچہ انہوں نے ایڈوکیٹ قاضی سید ولایت علی محسن علی کے ذریعہ بی ڈی او مسٹر جی ایل راموڈ‘ سرپنچ پدما بائی بھوتاڑے ‘ گرام سیوک سائی ناتھ جِدے واڑ ‘ اے ی او اتم راؤ ڈھالے ‘ انجنیئر سنیل چولوار ‘اکسٹنشن آفیسر پی ایس جادھو ‘ اکاؤنٹنٹ وی آر اسورے اور متعلقہ ملازمین پوسٹ و پنچایت کے خلاف آئی پی سی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر داخل کرنے کے احکامات معزز جج عدالت دیگلور نے جاری کردیئے ہیں ۔ یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ حکومت کی جانب سے بیروزگار نوجوانوں‘ تعلیم یافتہ ہو یا دیہی کئی اسکیمات آتی ہیں اور ان کا حشر ہمارے ان پڑھ رہنماؤں کے سبب یہی ہوتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT